حدیث نمبر: 3286
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَدَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالُوا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيٍّ ، أنهم قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ ، قَالَ : " فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وحشی بن حرب حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید الگ الگ متفرق ہو کر کھاتے ہو “ ، لوگوں نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھانا مل جل کر ایک ساتھ کھاؤ ، اور اللہ کا نام لیا کرو ، تو اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا اجتماعی کھانا شکم سیری اور حصول برکت کا سبب ہے اور اس سے گریز بے برکتی کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 3287
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوا جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سب مل کر کھانا کھاؤ ، اور الگ الگ ہو کر مت کھاؤ ، اس لیے کہ برکت سب کے ساتھ مل کر کھانے میں ہے “ ۔