کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: کن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے؟
حدیث نمبر: 3142
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ ، أَوْ مُدَابَرَةٍ ، أَوْ شَرْقَاءَ ، أَوْ خَرْقَاءَ ، أَوْ جَدْعَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا کان آگے سے یا پیچھے سے کٹا ہو ، یا وہ پھٹا ہو یا اس میں گول سوراخ ہو ، یا ناک کان اور ہونٹ میں سے کوئی عضو کٹا ہو ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كِتَابُ الْأَضَاحِي / حدیث: 3142
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (2804) ترمذي (1498) نسائي (4377۔4380), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأضاحي 6 ( 2804 ) ، سنن الترمذی/الاضاحي 6 ( 1498 ) ، سنن النسائی/الضحایا 7 ( 4377 ) ، 8 ( 4378 ) ، 9 ( 4379 ) ، ( تحفة الأشراف : 10125 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/80 ، 108 ، 128 ، 9 14 ) ، سنن الدارمی/الأضاحي 3 ( 1995 ) ( ضعیف ) » ( اس کے راوی ابواسحاق مختلط اور مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے ہے ، نیز ان کے شیخ شریح سے ان کا سماع نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع بھی ہے ، اور شریح شبیہ المجہول ہیں )
حدیث نمبر: 3143
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ ، وَالْأُذُنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ( قربانی کے جانور ) کی آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیں ( آیا وہ سلامت ہیں یا نہیں ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كِتَابُ الْأَضَاحِي / حدیث: 3143
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الأضاحي 9 ( 1503 ) ، سنن النسائی/الضحایا 10 ( 4381 ) ، ( تحفة الأشراف : 10064 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/95 ، 105 ، 125 ، 132 ، 152 ) ( حسن صحیح ) »
حدیث نمبر: 3144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وأبو الوليد ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ حَدِّثْنِي بِمَا كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ : " أَرْبَعٌ ، لَا تُجْزِئُ فِي الْأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا ، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا ، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا ، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تُنْقِي " ، قَالَ : فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْأُذُنِ ، قَالَ : فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ فَدَعْهُ ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ` میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے عرض کیا : مجھ سے قربانی کے ان جانوروں کو بیان کیجئیے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا ، یا منع کیا ہے ؟ تو براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے ( جب کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ) فرمایا : ” چار قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں : ایک کانا جس کا کانا پن واضح ہو ، دوسرے بیمار جس کی بیماری عیاں اور ظاہر ہو ، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو ، چوتھا ایسا لاغر اور دبلا پتلا جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو “ ۱؎ ۔ عبید نے کہا : میں اس جانور کو بھی مکروہ جانتا ہوں جس کے کان میں نقص ہو تو براء رضی اللہ عنہ نے کہا : ” جسے تم ناپسند کرو اسے چھوڑ دو ، لیکن دوسروں پر اسے حرام نہ کرو “ ۔
وضاحت:
۱ ؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس حدیث پرعمل ہے کہ جس قربانی میں یہ چاروں عیب ہوں ان کی قربانی جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كِتَابُ الْأَضَاحِي / حدیث: 3144
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأضاحي 6 ( 2802 ) ، سنن الترمذی/الأضاحي 5 ( 1497 ) ، سنن النسائی/الضحایا 4 ( 4374 ) ، ( تحفة الأشراف : 1790 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الضحایا 1 ( 1 ) ، مسند احمد ( 4/284 ، 289 ، 300 ، 301 ) ، سنن الدارمی/الأضاحي 3 ( 1992 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 3145
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا ، يُحَدِّثُ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ ، يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے اور کن کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: لیکن منڈا یعنی جس جانور کی سینگ اگی نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے، اسی طرح اگر کان آدھا سے کم کٹا ہو تو امام ابوحنیفہ نے اس کو جائز کہا ہے، لیکن حدیث مطلق ہے، اور حدیث کی اتباع بہتر ہے، اور احمد، ابوداود، حاکم اور بخاری نے تاریخ میں تخریج کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا «مصفرہ» (جس کا کان کاٹا گیا ہو) سے اور «مستاصلہ» (جس کی سینگ ٹوٹی ہو) سے اور «بخقاء» سے (جس کی آنکھ میں نقش ہو) اور «مشعیہ» سے (جو اور بکریوں کے ساتھ چل نہ سکے کمزوری اور لاغری سے) اور «کسیرہ» سے (جس کی ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو)۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كِتَابُ الْأَضَاحِي / حدیث: 3145
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأضاحي 6 ( 2805 ) ، سنن الترمذی/الأضاحي 9 ( 1504 ) ، سنن النسائی/الضحایا 11 ( 4382 ) ، ( تحفة الأشراف : 10031 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/83 ، 101 ، 109 ، 127 ، 129 ، 150 ) ( ضعیف ) » ( جری بن کلیب کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : 1149 )