کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: قربانی کا ثواب۔
حدیث نمبر: 3126
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُثَنَّى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا ، أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هِرَاقَةِ دَمٍ ، وَإِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا ، وَأَظْلَافِهَا ، وَأَشْعَارِهَا ، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگ ، کھر اور بالوں سمیت ( جوں کا توں ) آئے گا ، اور بیشک زمین پر خون گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام پیدا کر لیتا ہے ، پس اپنے دل کو قربانی سے خوش کرو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس سے اجر و ثواب کی امید کرو۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كِتَابُ الْأَضَاحِي / حدیث: 3126
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1493), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الأضاحي 1 ( 1493 ) ، ( تحفة الأشراف : 17343 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/239 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ابوالمثنیٰ ضعیف راوی ہے )
حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا عَائِذُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ ؟ ، قَالَ : " سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ " ، قَالُوا : فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ " ، قَالُوا : فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : تو ہم کو اس میں کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی “ لوگوں نے عرض کیا : اور بھیڑ میں اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھیڑ میں ( بھی ) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كِتَابُ الْأَضَاحِي / حدیث: 3127
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, عائذ اللّٰه المجاشعي: ضعيف (تقريب: 3116), وشيخه أبو داود الأعمي: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3687 ، ومصباح الزجاجة : 1084؍ أ ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/368 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں ابوداود النخعی متروک الحدیث بلکہ متہم بالوضع راوی ہے ، ملاحظہ ہو : المشکاة : 1476 )