حدیث نمبر: 3079
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 ، قَالَ كَعْبٌ : فِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي ، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي ، فَقَالَ : " مَا كُنْتُ أُرَى الْجُهْدَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى ، أَتَجِدُ شَاةً ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 ، قَالَ : " فَالصَّوْمُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ` میں مسجد میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تو میں نے ان سے آیت کریمہ : «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ( سورۃ البقرہ : ۱۹۶ ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے ، میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ جوئیں ( میرے سر میں اتنی کثرت سے تھیں کہ ) میرے منہ پر گر رہی تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اس قدر تکلیف ہو گی ، کیا ایک بکری تمہیں مل سکتی ہے “ ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ، تب یہ آیت اتری : «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» یعنی ” فدیہ ہے صوم کا یا صدقہ کا یا قربانی کا “ ، تو صوم تین دن کا ہے ، اور صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا دینا ہے ، ہر مسکین کو آدھا صاع ، اور قربانی ایک بکری کی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: محرم جب کوئی غلطی کر بیٹھے تو ان تینوں کفارات میں سے جو ادا کر سکے کرے۔
حدیث نمبر: 3080
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ آذَانِي الْقَمْلُ : " أَنْ أَحْلِقَ رَأْسِي ، وَأَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ، وَقَدْ عَلِمَ أَنْ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَنْسُكُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` جس وقت جوؤں نے مجھے پریشان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنا سر منڈوا ڈالوں ، اور تین دن روزے رکھوں ، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ میرے پاس قربانی کے لیے کچھ نہیں ہے ۔