کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2811
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الثَّلَاثَةَ الْجَنَّةَ : صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ ، وَالرَّامِيَ بِهِ ، وَالْمُمِدَّ بِهِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْمُوا ، وَارْكَبُوا ، وَأَنْ تَرْمُوا ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا ، وَكُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ ، إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ ، وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک تیر کے سبب اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا : ثواب کی نیت سے اس کے بنانے والے کو ، چلانے والے کو ، اور ترکش سے نکال نکال کر دینے والے کو “ ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیر اندازی کرو ، اور سواری کا فن سیکھو ، میرے نزدیک تیر اندازی سیکھنا سواری کا فن سیکھنے سے بہتر ہے ، مسلمان آدمی کا ہر کھیل باطل ہے سوائے تیر اندازی ، گھوڑے کے سدھانے ، اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے ، کیونکہ یہ تینوں کھیل سچے ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی یہ کھیل بےکار اور لغو نہیں ہیں، پہلے دونوں کھیلوں میں آدمی جہاد کے لئے مستعد اور تیار ہوتا ہے اور اخیر کے کھیل میں اپنی بیوی سے الفت ہوتی ہے، اولاد کی امید ہوتی ہے جو انسان کی نسل قائم رکھنے اور بڑھانے کے لئے ضروری ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف لكن قوله كل ما يلهو صحيح إلا فإنهن من الحق , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 ( 1637 ، 1638 ) ، ( تحفة الأشراف : 9929 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/144 ، 148 ، سنن الدارمی/الجہاد 14 ( 2449 ) ( ضعیف ) » ( «وكل ما يلهو به» کا لفظ صحیح ہے ، اور آخری جملہ «فإنهن من الحق» ثابت نہیں ہے ، نیز ملاحظہ ہو : الصحیحة : 315 )
حدیث نمبر: 2812
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ رَمَى الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ فَبَلَغَ سَهْمُهُ الْعَدُوَّ ، أَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ فَعَدْلُ رَقَبَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو دشمن کو تیر مارے ، اور اس کا تیر دشمن تک پہنچے ، ٹھیک لگے یا چوک جائے ، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2812
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10765 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 ( 1638 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2813
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ : وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60 ، أَلَا وَإِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آیت کریمہ : «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ( سورۃ الانفال : ۶۰ ) ” دشمن کے لیے طاقت بھر تیاری کرو “ کو پڑھتے ہوئے سنا : ( اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ) ” آگاہ رہو ! طاقت کا مطلب تیر اندازی ہی ہے “ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جنگجو کفار و مشرکین اور اعداء اسلام کے مقابلہ کے لئے ہمیشہ اپنی طاقت کو بڑھاتے رہو، اور ہر وقت جنگ کے لئے مستعد رہو گو جنگ نہ ہو، اس لئے کہ معلوم نہیں دشمن کس وقت حملہ کر بیٹھے، ایسا نہ ہو کہ دشمن تمہاری طاقت کم ہونے کے وقت غفلت میں حملہ کر بیٹھے اور تم پر غالب ہو جائے، افسوس ہے کہ مسلمانوں نے قرآن شریف کو مدت سے بالائے طاق رکھ دیا، ہزاروں میں سے ایک بھی مسلمان ایسا نظر نہیں آتا جو قرآن کو اس پر عمل کرنے کے لئے سمجھ کر پڑھے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2813
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإمارة 52 ( 1917 ) ، سنن ابی داود/الجہاد 24 ( 2514 ) ، ( تحفة الأشراف : 9911 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/تفسیر القرآن 9 ( 3083 ) ، مسند احمد ( 4/157 ) ، سنن الدارمی/الجہاد 14 ( 2448 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2814
حَدَّثَنَا حَرْمَلَهُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ الرُّعَيْنِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ ، فَقَدْ عَصَانِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا ، تو اس نے میری نافرمانی کی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی ہتھیار چلانے کا علم سیکھے تو کبھی کبھی اس کی مشق کرتا رہے چھوڑ نہ دے تاکہ ضرورت کے وقت کام آئے اب تیر کے عوض بندوق اور توپ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2814
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بلفظ فليس منا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عثمان بن نعيم الرعيني والمغيرة بن نھيك مجھولان (تقريب: 4523،6853), و حديث مسلم (1919) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9971 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجہاد 24 ( 2513 ) ، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 ( 1637 ) ، سنن النسائی/الجہاد 26 ( 3148 ) ، الخیل 8 ( 3608 ) ، مسند احمد ( 4/144 ، 146 ، 148 ، 154 ، سنن الدارمی/الجہاد 14 ( 2449 ) ( ضعیف ) » ( فقد عصانی کے لفظ سے ضعیف ہے ، اور «فلیس منّا» کے لفظ سے صحیح ہے )
حدیث نمبر: 2815
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ ، فَقَالَ : " رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيل ، فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسماعیل کی اولاد ! تیر اندازی کرو ، تمہارے والد ( اسماعیل ) بڑے تیر انداز تھے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اسماعیل علیہ السلام کو ان کے باپ ابراہیم علیہ السلام فاران کے میدان یعنی مکہ کی چٹیل زمین میں چھوڑ کر چلے آئے تھے وہ وہیں بڑے ہوئے، اور ان کو شکار کا بہت شوق تھا، اور بڑے تیر انداز اور بہادر تھے، تو نبی کریم ﷺ نے عربوں کو بھی تیر اندازی کی اس طرح سے ترغیب دی کہ یہ تمہارا آبائی پیشہ ہے اس کو خوب بڑھاؤ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2815
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5428 ، ومصباح الزجاجة : 996 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/364 ) ( صحیح ) »