حدیث نمبر: 2803
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِهِ : إِنْ كُنَّا لَنَرْجُو أَنْ تَكُونَ وَفَاتُهُ قَتْلَ شَهَادَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ ، وَالْمَطْعُونُ شَهَادَةٌ ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهَادَةٌ يَعْنِي الْحَامِلَ ، وَالْغَرِقُ ، وَالْحَرِقُ ، وَالْمَجْنُوبُ يَعْنِي ذَاتَ الْجَنْبِ شَهَادَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی ( عیادت ) کے لیے تشریف لائے ، ان کے اہل خانہ میں سے کسی نے کہا : ہمیں تو یہ امید تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں شہادت کی موت مریں گے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو میری امت کے شہداء کی تعداد بہت کم ہے ! ( نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) اللہ کے راستے میں قتل ہونا شہادت ہے ، مرض طاعون میں مر جانا شہادت ہے ، عورت کا زچگی ( جننے کی حالت ) میں مر جانا شہادت ہے ، ڈوب کر یا جل کر مر جانا شہادت ہے ، نیز پسلی کے ورم میں مر جانا شہادت ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ ان سب کو شہیدوں کا ثواب اور درجہ ملے گا گرچہ ان کے احکام شہید کے سے نہیں ہیں، اس لئے ان کو غسل دیا جائے گا، ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اس پر بھی بڑا شہید وہی ہے جو اللہ کی راہ یعنی جہاد میں مارا جائے۔
حدیث نمبر: 2804
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا تَقُولُونَ فِي الشَّهِيدِ فِيكُمْ ؟ " قَالُوا : الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ " ، قَالَ سُهَيْلٌ : وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَزَادَ فِيهِ : " وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم شہید کسے سمجھتے ہو “ ؟ لوگوں نے جواب دیا : اللہ کے راستے میں مارا جانا ( شہادت ہے ) فرمایا : ” تب تو میری امت میں بہت کم شہید ہوں گے “ ! ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) جو اللہ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے ، جو اللہ کے راستے میں مر جائے وہ بھی شہید ہے ، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے ، طاعون کے مرض میں مرنے والا شہید ہے “ ۔ سہیل کہتے ہیں : مجھے عبیداللہ بن مقسم نے خبر دی وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں ، اس میں یہ لفظ زیادہ ہے : ” اور ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے “ ۔