کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: کسی اور کو باپ بتانے اور کسی اور کو مولیٰ بنانے کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2609
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الضَّيْفِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ انْتَسَبَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے ، یا ( کوئی غلام یا لونڈی ) اپنے مالک کے بجائے کسی اور کو مالک بنائے تو اللہ تعالیٰ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اس پر لعنت ہے “ ۔
حدیث نمبر: 2610
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا وَأَبَا بَكْرَةَ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میرے کانوں نے سنا ، اور میرے دل نے یاد رکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کی طرف منسوب کرے ، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا والد نہیں ہے ، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہے “ ۔
حدیث نمبر: 2611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے ، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا ، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے “ ۔