کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جو کوئی باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی سے شادی کرے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2607
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ح وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ جَمِيعًا ، عَنِ أَشْعَثَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : مَرَّ بِي خَالِي سَمَّاهُ هُشَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ : الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو وَقَدْ عَقَدَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَاءً ، فَقُلْتُ لَهُ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ فَقَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میرے ماموں کا گزر میرے پاس سے ہوا ( راوی حدیث ہشیم نے ان کے ماموں کا نام حارث بن عمرو بتایا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک جھنڈا باندھ دیا تھا ، میں نے ان سے پوچھا : کہاں کا قصد ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے پاس روانہ کیا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی ( یعنی اپنی سوتیلی ماں ) سے شادی کر لی ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2607
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحدود 27 ( 4456 ، 4457 ) ، سنن الترمذی/الاحکام 25 ( 1362 ) ، سنن النسائی/النکاح 58 ( 333 ) ، ( تحفة الأشراف : 15534 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/290 ، 292 ، 295 ، 297 ) ، سنن الدارمی/النکاح 43 ( 2285 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2608
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي الْحُسَيْنِ الْجُعْفِيِّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَأُصَفِّيَ مَالَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی ، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت میں مالی تعزیر درست ہے، اوپر سرقہ کے باب میں گزر چکا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس سے دوگنی قیمت لی جائے گی ، اور بعضوں نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہو گیا تھا تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا، اس لئے کہ حد زنا میں مال ضبط نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11082 ، ومصباح الزجاجة : 922 ) ( حسن صحیح ) » ( سند میں خالد بن أبی کریمہ صدوق ہیں ، لیکن حدیث کی روایت میں خطا اور ارسال کرتے ہیں ، لیکن حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے شاہد کی وجہ سے صحیح ہے )