کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: چور کو تلقین کرنا کہ تم نے چوری نہ کی ہو گی!۔
حدیث نمبر: 2597
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ يَذْكُرُ أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ الْمَتَاعُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ؟ " قَالَ : بَلَى ، ثُمَّ قَالَ : " مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ؟ " قَالَ : بَلَى ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ " ، قَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " مَرَّتَيْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا ، اس نے اقبال جرم تو کیا لیکن اس کے پاس سامان نہیں ملا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہے “ ، اس نے کہا : کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : ” میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی “ ، اس نے کہا : کیوں نہیں ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہو «أستغفر الله وأتوب إليه» ” میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں “ ، تو اس نے کہا : «أستغفر الله وأتوب إليه» تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا : «اللهم تب عليه» ” اے اللہ تو اس کی توبہ قبول فرما “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2597
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (4380) نسائي (4881), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 472
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحدود 8 ( 4380 ) ، سنن النسائی/قطع السارق 3 ( 4881 ) ، ( تحفة الأشراف : 11861 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/293 ) ، سنن الدارمی/الحدود 6 ( 2349 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ابو المنذر غیر معروف راوی ہیں )