کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جس پر حد واجب نہیں ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2541
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ ، يَقُولُ : " عُرِضْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ غزوہ قریظہ کے دن ( جب بنی قریظہ کے تمام یہودی قتل کر دیئے گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو جس کے زیر ناف بال اگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا ، اور جس کے نہیں اگے تھے اسے ( نابالغ سمجھ کر ) چھوڑ دیا گیا ، میں ان لوگوں میں تھا جن کے بال نہیں اگے تھے تو مجھے چھوڑ دیا گیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عطیہ رضی اللہ عنہ کا تعلق یہود بنی قریظہ سے تھا، غزوہ احزاب کے فوراً بعد اس قبیلے کی غداری اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد اس پر چڑھائی کا واقعہ پیش آیا، اس غزوہ میں عطیہ رضی اللہ عنہ دیگر نابالغ بچوں کے ساتھ قتل ہونے سے بچ گئے، اور بعد میں اسلام قبول کیا، ان کا اسلام اور ان کی اسلامی خدمات بہت اعلیٰ درجے کی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2541
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الحدود 17 ( 4404 ) ، سنن الترمذی/السیر 29 ( 1584 ) ، سنن النسائی/الطلاق 20 ( 3460 ) ، القطع 14 ( 4984 ) ، ( تحفة الأشراف : 9904 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/310 ، 383 ، 5/312 ، 383 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2542
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ يَقُولُ : فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ` میں نے عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کو یہ بھی کہتے سنا : تو اب میں تمہارے درمیان ہوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2542
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2543
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَلَمْ يُجِزْنِي ، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي " ، قَالَ نَافِعٌ : فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلَافَتِهِ ، فَقَالَ : هَذَا فَصْلُ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کیا گیا ، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( غزوہ میں شریک ہونے کی ) اجازت نہیں دی ، لیکن جب مجھے آپ کے سامنے غزوہ خندق کے دن پیش کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی ۔ نافع کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے عمر بن عبدالعزیز سے ان کے عہد خلافت میں بیان کی تو انہوں نے کہا : یہی نابالغ اور بالغ کی حد ہے ۔
وضاحت:
۱؎: بلوغ کی کئی نشانیاں ہیں: زیر ناف بال اگنا، ڈاڑھی مونچھ کے بال اگنا، احتلام ہونا، پندرہ برس کی عمر کا ہونا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الحدود / حدیث: 2543
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث « حدیث أبي أسامة أخرجہ : صحیح البخاری/الشہادات 18 ( 2664 ) ، المغازي 29 ( 4097 ) ، ( تحفة الأشراف : 7833 ) ، وقد أخرجہ : وحدیث عبد اللہ بن نمیر صحیح مسلم/الإمارہ 23 ( 1864 ) ، ( تحفة الأشراف : 7955 ) ، مسند احمد ( 2/17 ) ، وحدیث أبي معاویہ تفردبہ ابن ماجہ ، تحفة الأشراف : 8115 ) ، سنن ابی داود/الخراج 16 ( 2957 ) ، الحدود 17 ( 4406 ) ، سنن الترمذی/الأحکام 24 ( 1316 ) ، الجہاد 31 ( 1711 ) ، سنن النسائی/الطلا ق20 ( 3431 ) ، مسند احمد ( 2/17 ) ( صحیح ) »