حدیث نمبر: 2518
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ : الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ التَّعَفُّفَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے ، ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ کا غازی ہو ، دوسرے وہ مکاتب جو بدل کتابت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو ، تیسرا وہ شخص جو پاک دامن رہنے کے ارادے سے نکاح کرے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مکاتب: وہ لونڈی یا غلام جس سے مالک کہے کہ تم اتنا مال ادا کر دو تو تم آزاد ہو۔
حدیث نمبر: 2519
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أُوقِيَّاتٍ فَهُوَ رَقِيقٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی گئی ہو ، اور وہ سوائے دس اوقیہ کے باقی تمام ادا کر دے ، تو وہ غلام ہی رہے گا “ ( جب تک پورا ادا نہ کر دے ) ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اوقیہ: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، جو تقریباً ایک سو اٹھارہ گرام کے مساوی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2520
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم میں سے کسی کے پاس مکاتب غلام ہو ، اور اس کے پاس اس قدر مال ہو گیا ہو کہ وہ اپنا بدل کتابت ادا کر سکے ، تو تم لوگوں کو اس سے پردہ کرنا چاہیئے “ ۔
حدیث نمبر: 2521
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ قَدْ كَاتَبَهَا أَهْلُهَا عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ ، فَقَالَتْ لَهَا : إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً ، وَكَانَ الْوَلَاءُ لِي ، قَالَ : فَأَتَتْ أَهْلَهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ الْوَلَاءَ لَهُمْ ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " افْعَلِي " ، قَالَ : فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ان کے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں جو مکاتب ( لونڈی ) تھیں ، ان کے مالکوں نے نو اوقیہ پر ان سے مکاتبت کی تھی ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہارا بدل مکاتبت میں ایک ہی بار ادا کروں ، مگر تمہاری ولاء ( میراث ) میری ہو گی ، چنانچہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس آئیں ، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ ( پیش کش ) اس شرط پر منظور کر لی کہ ولاء ( میراث ) کا حق خود ان کو ملے گا ، اس کا تذکرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنا کام کر ڈالو “ ، اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں خطبہ دیا ، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا : ” آخر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں ، اور ہر وہ شرط جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ ہو باطل ہے ، اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں ، اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حقدار اور اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ قوی ہے ، ولاء اسی کا حق ہے جو ( مکاتب کی طرف سے مال ادا کر کے ) اسے آزاد کرے “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ مکاتب جب بدل کتابت کی ادائیگی سے عاجز ہو جائے تو وہ پھر غلام ہو جاتا ہے، اور اس کی بیع درست ہوجاتی ہے، اور بریرہ رضی اللہ عنہا کا یہی حال ہوا تھا، جب تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خرید کر کے آزاد کر دیا۔