کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جس شخص کو دفینہ (رکاز) مل جائے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2509
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ وأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «رکاز» میں پانچواں حصہ ( بیت المال کا ) ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «رکاز» کان کو کہتے ہیں، اور کچھ علماء کہتے ہیں کہ کافروں کے دفینہ یعنی خزانہ کو «رکاز» کہا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللقطة / حدیث: 2509
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحدود 11 ( 1710 ) ، سنن ابی داود/الخراج 40 ( 3085 ) ، سنن الترمذی/الأحکام 37 ( 1377 ) ، سنن النسائی/الزکاة 28 ( 2497 ) ، ( تحفة الأشراف : 13128 ، 15147 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الزکاة 66 ( 1499 ) ، المساقاة 3 ( 2355 ) ، الدیات 28 ( 6912 ) ، 29 ( 6913 ) ، موطا امام مالک/ العقول 18 ( 12 ) ، مسند احمد ( 2/228 ، 229 ، 254 ، 274 ، 285 ، 319 ، 382 ، 386 ، 406 ، 411 ، 414 ، 454 ، 456 ، 467 ، 475 ، 482 ، 482 ، 495 ، 499 ، 501 ، 507 ) ، سنن الدارمی/الزکاة 30 ( 1710 ) ، الدیات 9 ( 2422 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2510
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «رکاز» میں پانچواں حصہ ( بیت المال کا ) ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللقطة / حدیث: 2510
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6129 ، ومصباح الزجاجة : 889 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/314 ، 3/180 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْم بْنُ حَيَّانَ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ اشْتَرَى عَقَارًا ، فَوَجَدَ فِيهَا جَرَّةً مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَشْتَرِ مِنْكَ الذَّهَبَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ بِمَا فِيهَا فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ : أَلَكُمَا وَلَدٌ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : لِي غُلَامٌ ، وَقَالَ الْآخَرُ : لِي جَارِيَةٌ ، قَالَ : فَأَنْكِحَا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَلْيُنْفِقَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَلْيَتَصَدَّقَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص نے ایک زمین خریدی ، اس میں اسے سونے کا ایک مٹکا ملا ، خریدار بائع ( بیچنے والے ) سے کہنے لگا : میں نے تو تم سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا ، اور بائع کہہ رہا تھا : میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہارے ہاتھ بیچا ہے ، الغرض دونوں ایک شخص کے پاس معاملہ لے گئے ، اس نے پوچھا : تم دونوں کا کوئی بچہ ہے ؟ ان میں سے ایک نے کہا : ہاں میرے پاس ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا : میرے پاس ایک لڑکی ہے ، تو اس شخص نے کہا : تم دونوں اس لڑکے کی شادی اس لڑکی سے کر دو ، اور چاہیئے کہ اس سونے کو وہی دونوں اپنے اوپر خرچ کریں ، اور اس میں سے صدقہ بھی دیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللقطة / حدیث: 2511
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12296 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأنبیاء 54 ( 3472 ) ، صحیح مسلم/الأقضیة 11 ( 1721 ) ، مسند احمد ( 2/316 ) ( صحیح ) »