کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2345
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، " أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص کے چھ غلام تھے ، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا ، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے ( دو دو کے تین حصے ) ( اور قرعہ اندازی کر کے ) دو کو ( جن کے نام قرعہ نکلا ) آزاد کر دیا ، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جب آدمی بیمار ہو تو اس کو چاہئے کہ وارثوں کا خیال رکھے، اور اپنی ساری دولت تقسیم نہ کر دے، اگر ایسا ہی ضروری ہو تو تہائی مال تک اللہ کی راہ میں دے دے، اور دو تہائی دولت وارثوں کے لئے چھوڑ دے، اگر ساری دولت کے صدقہ کی وہ وصیت کرے تو یہ وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہو گی۔ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا، دو غلاموں کو قرعہ ڈال کر آزاد کرایا، اور قرعہ اس واسطے ڈالا کہ وہ جھگڑا نہ کریں، اور وہ وارثوں کی ملکیت میں بدستور غلام رہے، دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے حق میں سخت کلمہ کہا کیونکہ اس نے وارثوں کا خیال نہیں رکھا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2345
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحدود 5 ( 1668 ) ، سنن ابی داود/الحدود 25 ( 3958 ، 3959 ) ، سنن الترمذی/الأحکام 27 ( 1364 ) ، ( تحفة الأشراف : 10880 ) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الجنائز65 ( 1960 ) ، مسند احمد ( 4/420 ، 435 ، 437 ، 440 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2346
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَءَا فِي بَيْعٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا ذَلِكَ أَمْ كَرِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا ، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2346
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, انظر الحديث السابق (2329), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الأقضیة 22 ( 3616 ) وأنظر حدیث رقم : ( 2329 ) ، ( تحفة الأشراف : 14662 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/489 ، 524 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2347
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جس کے نام قرعہ نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2347
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الھبة 15 ( 2593 ) ، المغازي 34 ( 4141 ) ، النکاح 97 ( 5092 ) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 ( 2445 ) ، التوبة 10 ( 2445 ) ، سنن ابی داود/النکاح 39 ( 2138 ) ، ( تحفة الأشراف : 16678 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/151 ، 197 ، 269 ) ، سنن الدارمی/النکاح 26 ( 2245 ) ، الجہاد 31 ( 2467 ) ، ( یہ حدیث مکرر ہے ، ملاحظہ ہو : 1970 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 2348
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : " أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلَاثَةٍ قَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ ، فَقَالَ : أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ ؟ فَقَالَا : لَا ، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ ، فَقَالَ : أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ ؟ فَقَالَا : لَا ، فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ ؟ قَالَا : لَا ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے ، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی ، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا : کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے ؟ ان دونوں نے کہا : نہیں ، پھر دو کو الگ کیا ، اور ان سے پوچھا : کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے ؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو ؟ تو وہ انکار کرتے ، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی ، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا ، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کر دی ، اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ ہنسے ، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ہنسی کی وجہ یہ تھی کہ یہ فیصلہ عجیب طور کا تھا، اور دو تہائی دیت کی اس سے اس لئے دلوائی کہ دعوی کے مطابق اس لڑکے میں تینوں شریک تھے، اب قرعہ جھگڑا ختم کرنے کے لئے کیا، نہ نسب ثابت کرنے کے لئے، تو اس شخص کو بچہ کا دو تہائی کا بدلہ دوسرے دعویداروں کو دینا پڑا اور یہ علی رضی اللہ عنہ کی اپنی رائے تھی، لیکن ابوداود نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایسی صورت میں یہ حکم فرمایا: وہ بچہ اپنی ماں کے پاس رہے گا، اور کسی سے اس کا نسب ثابت نہ ہو گا، نہ وہ ان دعویداروں میں سے کسی مرد کا وارث ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2348
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الطلاق 32 ( 2270 ) ، سنن النسائی/الطلاق 50 ( 3518 ) ، ( تحفة الأشراف : 3670 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/373 ، 474 ) ( صحیح ) »