حدیث نمبر: 2242
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى ، أَنَّ خَرَاجَ الْعَبْدِ بِضَمَانِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ غلام کی کمائی اس کی ہے ، جو اس کا ضامن ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ کئی دن تک اس کے پاس رہا، پھر عیب کی وجہ سے یا شرط خیار کی بناء پر اس کو واپس کر دیا،تو جتنے دن وہ غلام خریدار کے پاس رہا اتنے دن کی کمائی خریدار ہی کی ہوگی، اس لئے کہ خریدار ہی ان دنوں میں اس کا ضامن تھا، اگر وہ غلام خریدار کے پاس ہلاک ہو جاتا تو اسی کا نقصان ہوتا، بیچنے والے کا نقصان نہ ہوتا۔
حدیث نمبر: 2243
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَغَلَّهُ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَرَدَّهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدِ اسْتَغَلَّ غُلَامِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے ایک غلام خریدا ، پھر اس سے مزدوری کرائی ، بعد میں اسے اس میں کوئی عیب نظر آیا ، اسے بیچنے والے کو واپس کر دیا ، بیچنے والے نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے میرے غلام سے مزدوری کرائی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ فائدہ اسے ضمانت کی وجہ سے ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تو وہ اجرت خریدنے والے ہی کا حق ہے، اس لئے کہ وہ اس غلام کا ضامن تھا اگر وہ غلام اس کے پاس مر جاتا تو کیا اس کو قیمت واپس کر دیتا۔