حدیث نمبر: 2115
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قسم دینے والے کی قسم پوری کرنے کا حکم دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2116
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ أَوْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْ لِأَبِي نَصِيبًا فِي الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَا هِجْرَةَ " ، فَانْطَلَقَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ ، فَقَالَ : قَدْ عَرَفْتَنِي ، قَالَ : أَجَلْ فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْتَ فُلَانًا ، وَالَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَجَاءَ بِأَبِيهِ لِتُبَايعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَا هِجْرَةَ " ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ ، فَمَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَمَسَّ يَدَهُ ، فَقَالَ : " أَبْرَرْتُ عَمِّي وَلَا هِجْرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں کہ` جس دن مکہ فتح ہوا ، وہ اپنے والد کو لے کر آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد کو ہجرت کے ثواب سے ایک حصہ دلوائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب ہجرت نہیں ہے ، آخر وہ چلا گیا ، اور عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : آپ نے مجھے پہچانا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر عباس رضی اللہ عنہ ایک قمیص پہنے ہوئے نکلے ان پر چادر بھی نہ تھی عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ میں اور فلاں شخص میں جو تعلقات ہیں وہ آپ کو معلوم ہیں ، اور وہ اپنے والد کو لے کر آیا ہے تاکہ آپ اس سے ہجرت پہ بیعت کر لیں ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب ہجرت نہیں رہی “ ، عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ کو قسم دیتا ہوں ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، اور اس کا ہاتھ چھو لیا ، اور فرمایا : ” میں نے اپنے چچا کی قسم پوری کی ، لیکن ہجرت تو نہیں رہی “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی میرے اور آپ کے درمیان جو دوستی ہے، اب اس کا حق ادا کیجیے، اور ہجرت کا ثواب دلوائیے۔
حدیث نمبر: 2116M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ : يَعْنِي لَا هِجْرَةَ مِنْ دَارٍ قَدْ أَسْلَمَ أَهْلُهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ` اس شہر سے ہجرت نہیں جس کے رہنے والے مسلمان ہو گئے ہوں ۔ اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد نے ایسے ہی روایت کی ہے ، اور سند دونوں کی ایک ہی ہے ۔