حدیث نمبر: 1838
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرَ جَهَنَّمَ ، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ ، أَوْ لِيُكْثِرْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا ، تو وہ جہنم کے انگارے مانگتا ہے ، چاہے اب وہ زیادہ مانگے یا کم مانگے “ ۔
حدیث نمبر: 1839
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ و خیرات کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحت مند آدمی کے لیے حلال نہیں ہے “ ۔
حدیث نمبر: 1840
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ ، جَاءَتْ مَسْأَلَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُدُوشًا ، أَوْ خُمُوشًا ، أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ ؟ ، قَالَ : " خَمْسُونَ دِرْهَمًا ، أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ لِسُفْيَانَ : إِنَّ شُعْبَةَ لَا يُحَدِّثُ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ سُفْيَانُ : قَدْ حَدَّثَنَاهُ زُبَيْدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو ، تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پہ زخم کا نشان بن کر آئے گا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کتنا مال آدمی کو بے نیاز کرتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا “ ۱؎ ۔ ایک شخص نے سفیان ثوری سے کہا : شعبہ تو حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ؟ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ حدیث ہم سے زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ابوداود کی روایت میں ہے: «غنا» کی حد یہ ہے کہ آدمی کے پاس صبح و شام کا کھانا ہو، اور ایک روایت میں ہے کہ ایک اوقیہ کا مالک ہو، اور اس روایت میں پچاس درہم مذکور ہے، شافعی نے دوسرے قول کو لیا ہے اور احمد اور اسحاق اور ابن مبارک نے پہلے قول کو، بعض لوگوں نے تیسرے قول کو اور ابوحنیفہ نے کہا جو دو سو درہم کا مالک ہے یا اس قدر مالیت کا اسباب اس کے پاس ہے اس کے لیے سوال صحیح نہیں۔