کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نمازی اونگھنے لگے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1370
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ ، فَيَسُبُّ نَفْسَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی شخص کو اونگھ آئے تو سو جائے یہاں تک کہ نیند جاتی رہے ، اس لیے کہ اگر وہ اونگھنے کی حالت میں نماز پڑھے گا تو اسے یہ خبر نہ ہو گی کہ وہ استغفار کر رہا ہے ، یا اپنے آپ کو بد دعا دے رہا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1370
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « حدیث أبي بکر بن أبي شیبة أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین 31 ( 786 ) ، ( تحفة الأشراف : 16983 ) ، وحدیث محمد بن عثمان العثمانی ، تفرد بہ ابن ماجہ : ( تحفة الأشراف : 17029 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء 53 ( 212 ) ، سنن ابی داود/الصلا 308 ( 1310 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 146 ( 355 ) ، سنن النسائی/الطہارة 117 ( 162 ) ، موطا امام مالک/صلاة اللیل 1 ( 3 ) ، مسند احمد ( 6/56 ، 205 ) ، دی/الصلاة 107 ( 1423 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1371
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟ " ، قَالُوا لِزَيْنَبَ : تُصَلِّي فِيهِ ، فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ ، فَقَالَ : " حُلُّوهُ حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ، تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی تنی ہوئی دیکھی ، پوچھا ” یہ رسی کیسی ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : زینب کی ہے ، وہ یہاں نماز پڑھتی ہیں ، جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے کھول دو ، اسے کھول دو ، تم میں سے نماز پڑھنے والے کو نماز اپنی نشاط اور چستی میں پڑھنی چاہیئے ، اور جب تھک جائے تو بیٹھ رہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جب تھک جائے تو نماز سے رک جائے اور آرام کرے، مقصد یہ ہے کہ طاقت سے زیادہ نفلی عبادت ضروری نہیں ہے، جب تک دل لگے اس وقت تک کرے، بے دلی اور نفرت کے ساتھ عبادت کرنے سے بچتا رہے، اور اگر نفلی عبادت سے تھک کر کوئی آرام کرے، تاکہ دوبارہ عبادت کی قوت حاصل ہو جائے، تو اس کا یہ آرام بھی مثل عبادت کے ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1371
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج حدیث « صحیح البخاری/التہجد 18 ( 1150 ) ، صحیح مسلم/المسافرین 32 ( 784 ) ، سنن النسائی/قیام اللیل 15 ( 1644 ) ، ( تحفة الأشراف : 1033 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة 308 ( 1311 ) ، مسند احمد ( 3/101 ، 184 ، 204 ، 256 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 1372
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ اضْطَجَعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو پھر ( نیند کے غلبے کی وجہ سے ) قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے ، اور اسے معلوم نہ رہے کہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے ، تو اسے سو جانا چاہیئے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1372
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14815 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین 31 ( 787 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 308 ( 1311 ) ، مسند احمد ( 2/218 ) ( صحیح ) »