حدیث نمبر: 1174
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنِ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دو دو رکعت پڑھتے تھے ، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 1175
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ " ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ غَلَبَتْنِي عَيْنِي ، أَرَأَيْتَ إِنْ نِمْتُ ؟ ، قَالَ : " اجْعَلْ أَرَأَيْتَ عِنْدَ ذَلِكَ النَّجْمِ " ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا السِّمَاكُ ، ثُمَّ أَعَادَ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ قَبْلَ الصُّبْحِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات کی نماز دو دو رکعت اور وتر ایک رکعت ہے “ ، ابومجلز ( لاحق بن حمید ) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ اگر میری آنکھ لگ جائے ، اگر میں سو جاؤں ؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اگر مگر اس ستارے کے پاس لے جاؤ ، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ستارہ سماک ۱؎ چمک رہا تھا ، پھر انہوں نے وہی جملہ دہرایا ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” رات کی نماز دو دو رکعت ہے ، اور وتر صبح سے پہلے ایک رکعت ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: «سماک» : ایک ستارہ کا نام ہے، «سما کان» : دو روشن ستارے، ایک کا نام «السماء الرامح» ہے، دوسرے کا «السماء الأعزل» ہے۔
حدیث نمبر: 1176
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ أُوتِرُ ؟ ، قَالَ : " أَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " ، قَالَ : إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ الْبُتَيْرَاءُ ، فَقَالَ : " سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يُرِيدُ هَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : میں وتر کیسے پڑھوں ؟ تو انہوں نے کہا : تم ایک رکعت کو وتر بناؤ ، اس شخص نے کہا : میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس نماز کو «بتیراء» ( دم کٹی نماز ) کہیں گے ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے ، ان کی مراد تھی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے ۔
حدیث نمبر: 1177
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُسَلِّمُ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت پہ سلام پھیرتے تھے ، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے ۔