کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: جس کی ظہر کے بعد کی دو رکعت سنت چھوٹ جائے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1159
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : أَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ الرَّسُولِ ، فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَتَوَضَّأُ فِي بَيْتِي لِلظُّهْرِ ، وَكَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِيًا ، وَكَثُرَ عِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ ، وَكَانَ قَدْ أَهَمَّهُ شَأْنُهُمْ إِذْ ضُرِبَ الْبَابُ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ جَلَسَ يَقْسِمُ مَا جَاءَ بِهِ ، قَالَتْ : فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى الْعَصْرِ ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : " شَغَلَنِي أَمْرُ السَّاعِي أَنْ أُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ` معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص بھیجا ، قاصد کے ساتھ میں بھی گیا ، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا ، تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں نماز ظہر کے لیے وضو کر رہے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے والا ایک شخص روانہ کیا تھا ، آپ کے پاس مہاجرین کی بھیڑ تھی ، اور ان کی بدحالی نے آپ کو فکر میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ، آپ باہر نکلے ، ظہر پڑھائی پھر بیٹھے ، اور صدقہ وصول کرنے والا جو کچھ لایا تھا اسے تقسیم کرنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر تک ایسے ہی تقسیم کرتے رہے ، پھر آپ میرے گھر میں داخل ہوئے ، اور دو رکعت پڑھی ، اور فرمایا : ” صدقہ وصول کرنے والے کے معاملے نے مجھے ظہر کے بعد دو رکعت سنت کی ادائیگی سے مشغول کر دیا تھا ، اب نماز عصر کے بعد میں نے وہی دونوں رکعتیں پڑھی ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1159
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يزيد بن أبي زياد: ضعيف مدلس, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 18171ومصباح الزجاجة : 413 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/السہو 8 ( 1233 ) ، المغازي 69 ( 4370 ) ، صحیح مسلم/المسافرین 54 ( 834 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 298 ( 1273 ) ، سنن النسائی/المواقیت 35 ( 580 ) ، مسند احمد ( 6/309 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 143 ( 1476 ) ( منکر ) » ( یزید بن ابی زیاد القرشی الہاشمی ضعیف ہیں ، بڑھاپے کی وجہ سے حافظہ میں فرق آ گیا تھا ، اور تلقین قبول کرنے لگے تھے ، نیز شیعہ تھے ، ابن حجر کے الفاظ ہیں : «ضعيف كبر فتغير وصار يتلقن وكان شيعياً» ( خت م 4 ) تہذیب الکمال 32؍ 140 ، والتقریب ) ، بخاری نے تعلیقاً اور مسلم نے دوسرے راوی کے ساتھ ان سے حدیث روایت کی ہے ، صحیحین وغیرہ میں دوسرے سیاق کے ساتھ یہ حدیث موجو د ہے ، اوپر کی تخریج ملاحظہ ہو )