حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ قَالَ : خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ ، وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْنَا وَرَاءَهُ صَلَاةً أُخْرَى ، فَقَضَى الصَّلَاةَ ، فَرَأَى رَجُلًا فَرْدًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ ، قَالَ : فَوَقَفَ عَلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ ، قَالَ : " اسْتَقْبِلْ صَلَاتَكَ ، لَا صَلَاةَ لِلَّذِي خَلْفَ الصَّفِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن شیبان رضی اللہ عنہ اور ( وہ وفد میں سے تھے ) کہتے ہیں کہ` ہم سفر کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی ، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دوسری نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرنے کے بعد ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے ، آپ اس کے پاس ٹھہرے رہے ، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دوبارہ نماز پڑھو ، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ جب ہے کہ صف میں جگہ ہو، اور بلا عذر اکیلے رہ کر صف کے پیچھے نماز پڑھے، تو اس کی نماز جائز نہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، فَأَوْقَفَنِي عَلَى شَيْخٍ بِالرَّقَّةِ يُقَالُ لَهُ : وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، فَقَالَ : " صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہلال بن یساف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور رقہ کے ایک شیخ کے پاس مجھے لا کر کھڑا کیا ، جن کو وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، انہوں نے کہا : ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا ۔