کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 972
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَمْرِو بْنِ جَرَاد ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو یا دو سے زیادہ لوگ جماعت ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 972
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, الربيع بن بدر: متروك (تقريب: 1883) والسند ضعفه البو صيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفة الأشراف: 9021، ومصباح الزجاجة: 352 ) ( ضعیف )» ( اس کی سند میں ربیع اور ان کے والد بدر بن عمرو دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 489 )
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز ( تہجد ) کے لیے اٹھے ، میں بھی اٹھا اور جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ نفلی نماز میں جماعت صحیح ہے، اور دوسرے یہ کہ ایک لڑکے کے ساتھ ہونے سے جماعت ہو جاتی ہے، تیسرے یہ کہ اگر مقتدی اکیلا ہو تو امام کے دائیں طرف کھڑے ہو، چوتھی یہ کہ جس نے امامت کی نیت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 973
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العلم 42 ( 117 )، الأذان 57 ( 697 )، 59 ( 699 )، 79 ( 728 )، اللباس 71 ( 5919 )، ( تحفة الأشراف: 5769 )، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 ( 763 )، سنن ابی داود/الصلاة 70 ( 610 )، سنن النسائی/الإمامة 22 ( 807 )، مسند احمد ( 1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365 )، سنن الدارمی/الصلاة 43 ( 1290 ) ( صحیح )»
حدیث نمبر: 974
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، فَجِئْتُ ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھ رہے تھے میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھی آپ ﷺ نے اسی طرح دائیں طرف کر لیا، ایک ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کی طرف سے گھما کر، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز اس قدر عمل کرنے سے فاسد نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 974
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شرحبيل بن سعد: ضعيف, ولبعض الحديث شواھد عند ابن خزيمة (1532۔1674) و مسلم (3008) وغيرهما, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفة الأشراف: 2279، ومصباح الزجاجة: 352/أ )، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 ( 766 )، سنن ابی داود/الصلاة 82 ( 634 )، مسند احمد ( 1/268، 360، 3/326 ) ( صحیح )» ( دوسرے شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں شرحبیل ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 529، و مصباح الزجاحة: 355، بتحقیق الشہری )
حدیث نمبر: 975
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ وَبِي ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، وَصَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَلْفَنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کی ایک عورت اور میرے ساتھ نماز پڑھی ، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کیا ، اور عورت نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ بھی نفل ہو گی کیونکہ فرض تو آپ مسجد میں ادا کرتے تھے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر مقتدی ایک عورت اور ایک لڑکا ہو تو لڑکا امام کے دائیں طرف کھڑا ہو، اور عورت پیچھے کھڑی ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 975
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 70 ( 609 )، سنن النسائی/الإمامة 21 ( 804 )، ( تحفة الأشراف: 1609 )، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 78 ( 727 )، صحیح مسلم/المساجد 48 ( 660 )، مسند احمد ( 3/258 ) ( صحیح )»