حدیث نمبر: 543
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : " بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقِيلَ لَهُ : أَتَفْعَلُ هَذَا ؟ قَالَ : " وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : كَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ لِأَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ` جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا ، پھر وضو کیا ، اور اپنے موزوں پر مسح کیا ، ان سے پوچھا گیا : کیا آپ ایسا کرتے ہیں ؟ کہا : میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ابراہیم کہتے ہیں : لوگ جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث پسند کرتے تھے ، اس لیے کہ انہوں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا ، ( کیونکہ سورۃ المائدہ میں پیر کے دھونے کا حکم تھا ) ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس روایت میں لوگوں سے مراد اصحاب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، جس کی صراحت مسلم کی روایت میں ہے، مطلب یہ کہ سورہ مائدہ میں وضو کا حکم ہے، اگر جریر رضی اللہ عنہ کا اسلام نزول آیت سے پہلے ہوتا تو احتمال تھا کہ یہ حکم منسوخ ہو، اور جب متأخر ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت آیت کی مخصص ہے، اور حکم یہ ہے کہ اگر پیروں میں وضو کے بعد «خف» (موزے) پہنے ہوں تو مسح کافی ہے، دھونے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 544
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، اور اپنے موزوں پر مسح کیا ۔
حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ ، فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے ، وہ ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیے ، جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہو گئے ، تو وضو کیا ، اور موزوں پر مسح کیا ۔
حدیث نمبر: 546
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُوَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ ، فَقَالَ سَعْدٌ لِعُمَرَ : أَفْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَ عُمَرُ : " كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا لَمْ نَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا " ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` انہوں نے سعد بن مالک ( سعد بن مالک ابن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو کہا : کیا آپ لوگ بھی ایسا کرتے ہیں ؟ وہ دونوں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھا ہوئے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتائیے ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے تھے ، اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے ، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : خواہ کوئی بیت الخلاء سے آئے ؟ فرمایا : ہاں ۔
حدیث نمبر: 547
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، وَأَمَرَنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ، اور ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ۔
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : " هَلْ مِنْ مَاءٍ ؟ فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْجَيْشِ فَأَمَّهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ آپ نے فرمایا : ” کچھ پانی ہے “ ؟ ، پھر آپ نے وضو کیا ، اور موزوں پر مسح کیا ، پھر لشکر میں شامل ہوئے اور ان کی امامت فرمائی ۔
حدیث نمبر: 549
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ ، " أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سیاہ سادے موزے بطور ہدیہ پیش کئے ، آپ نے انہیں پہنا ، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا ۔