حدیث نمبر: 488
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَيْهِ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا ، پھر نیچے بچھے ہوئے چمڑے میں اپنا ہاتھ پونچھا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، اور نماز پڑھائی ۔
حدیث نمبر: 489
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ خُبْزًا وَلَحْمًا ، وَلَمْ يَتَوَضَّئُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے روٹی اور گوشت کھایا ، اور وضو نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 490
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَضَرْتُ عَشَاءَ الْوَلِيدِ ، أَوْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قُمْتُ لِأَتَوَضَّأَ ، فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " أَكَلَ طَعَامًا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " ، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بِمِثْلِ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہری کہتے ہیں کہ` میں ولید یا عبدالملک کے ساتھ شام کے کھانے پہ حاضر ہوا ، جب نماز کا وقت ہوا تو میں وضو کے لیے اٹھا تو جعفر بن عمرو بن امیہ ۱؎ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد ( عمرو بن امیہ ضمری مدنی رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ پہ پکا ہوا کھانا کھایا ، پھر نماز پڑھی ، اور وضو نہیں کیا ۔ علی بن عبداللہ بن عباس نے کہا کہ میں اپنے والد ( عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ) کے بارے میں بھی اسی طرح کی گواہی دیتا ہوں ۔
وضاحت:
۱؎: جعفر عبدالملک بن مروان کے رضاعی بھائی تھے۔
حدیث نمبر: 491
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ، وَصَلَّى ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کی ( پکی ہوئی ) دست پیش کی گئی ، آپ نے اس میں سے کھایا ، پھر نماز پڑھی ، اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا ۔
حدیث نمبر: 492
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ ، " أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ " صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَعَا بِأَطْعِمَةٍ ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سوید بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جانب نکلے ، جب مقام صہباء ۱؎ میں پہنچے تو عصر کی نماز پڑھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگایا تو صرف ستو لایا گیا لوگوں نے اسے کھایا ، پیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا ، اور کلی کی ، پھر اٹھے اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی ۔
وضاحت:
۱؎: «صہباء» : خیبر سے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 493
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ فَمَضْمَضَ ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ، وَصَلَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا ، پھر کلی کی ، اور اپنے ہاتھ دھو کر نماز پڑھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث سے پچھلے باب کی احادیث منسوخ ہیں، یا پچھلے باب کی احادیث میں وضو سے مراد ہاتھ وغیرہ دھونا ہے ناکہ شرعی وضو۔