کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ : وَلَهَانُ ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو میں وسوسہ ڈالنے کے کام کے لیے ایک شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے ، لہٰذا تم پانی کے وسوسوں سے بچو “ ۔
حدیث نمبر: 422
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ ؟ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ ، أَوْ تَعَدَّى ، أَوْ ظَلَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا ، اور آپ سے وضو کے سلسلے میں پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کر کے اسے دکھایا ، پھر فرمایا : ” یہی ( مکمل ) وضو ہے ، لہٰذا جس نے اس سے زیادہ کیا اس نے برا کیا ، یا حد سے تجاوز کیا ، یا ظلم کیا “ ۔
حدیث نمبر: 423
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ كُرَيْبًا ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنَّةٍ وُضُوءًا يُقَلِّلُهُ ، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے ، اور آپ نے ایک پرانے مشکیزے سے بہت ہی ہلکا وضو کیا ، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی بہت جلد اور تھوڑے پانی سے وضو کیا، اور یہ وقت تہجد کا تھا۔
حدیث نمبر: 424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَتَوَضَّأُ ، فَقَالَ : لَا تُسْرِفْ ، لَا تُسْرِفْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” اسراف ( فضول خرچی ) نہ کرو ، اسراف ( فضول خرچی ) نہ کرو “ ۔
حدیث نمبر: 425
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا السَّرَفُ " ؟ فَقَالَ : أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ، وہ وضو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کیسا اسراف ہے ؟ “ ، انہوں نے کہا : کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں چاہے تم بہتی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان احادیث سے وضو میں بھی فضول خرچی منع ہے، آج کل بلاوجہ پانی زیادہ بہانے کا رواج ہو گیا ہے، مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کا خاص خیال رکھیں، اور بلا ضرورت پانی نہ بہائیں۔