کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے۔
حدیث نمبر: 275
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کی کنجی طہارت ( وضو ) ہے ، اور ( دوران نماز ممنوع چیزوں کو ) حرام کر دینے والی چیز تکبیر ( تحریمہ ) ہے ، اور ( نماز سے باہر ) امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تکبیر اولیٰ کہنے کے بعد وہ سارے افعال حرام ہو جاتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نماز میں حرام قرار دیا ہے، اور سلام پھیرنے کے بعد وہ سارے افعال حلال ہو جاتے ہیں، جنہیں نماز کے باہر اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 275
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطہارة 31 ( 61 ) ، سنن الترمذی/الطہارة 3 ( 3 ) ، ( تحفة الأشراف : 10265 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/123 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 21 ( 713 ) ( حسن صحیح ) ( ملاحظہ ہو : الإرواء : 301 ) »
حدیث نمبر: 276
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَرِيفٍ السَّعْدِيِّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کی کنجی پاکی ( وضو ) ہے ، اور اس کی منافی چیزیں پہلی تکبیر تحریمہ سے حرام ہو جاتی ہیں ، اور اس ( یعنی نماز ) سے باہر امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام پھیرنا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «تحریم» : نماز کی حرمت میں دخول اور «تحلیل» : نماز کی حرمت سے خروج کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے، یعنی نماز میں داخلہ تکبیر ہی سے اور نماز سے خروج تسلیم ہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کا دروازہ بند ہوتا ہے بندہ اسے طہارت ہی سے کھول سکتا ہے، یعنی بغیر وضو اور طہارت کے نماز نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح نماز میں آدمی «اللہ اکبر» ہی کہہ کر داخل ہو سکتا ہے، اور «السلام علیکم» ہی کہہ کر اس سے باہر نکل سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 276
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الصلا ة 62 ( 238 ) ، ( تحفة الأشراف : 4357 ) ( صحیح ) » ( یہ سند ابو سفیان طریف سعدی کی وجہ سے ضعیف ہے ، لیکن سابقہ حدیث کی بناء پر یہ صحیح ہے )