کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام۔
حدیث نمبر: 203
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا اور اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اسے اس کے ( عمل ) کا اجر و ثواب ملے گا ، اور اس پر جو لوگ عمل کریں ان کے اجر کے برابر بھی اسے اجر ملتا رہے گا ، اس سے ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی ، اور جس نے کوئی برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اور لوگوں نے عمل کیا تو اس کے اوپر اس کا گناہ ہو گا ، اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اسی پر ہو گا ، اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث یہاں مختصر ہے، پوری حدیث صحیح مسلم کتاب الزکاۃ میں ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ «من سن في الإسلام» کے معنی یہ نہیں کہ دین میں نئی نئی بدعتیں نکالی جائیں، اور ان کا نام بدعت حسنہ رکھ دیا جائے، شریعت میں کوئی بدعت سنت حسنہ نہیں ہوتی، حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو چیز اصول اسلام سے ثابت ہو، اور کسی وجہ سے اس کی طرف لوگوں کی توجہ نہ ہو، اور کوئی شخص اس کو جاری کرے تو جو لوگ اس کو دیکھ کر اس سنت پر عمل کریں گے ان کے ثواب میں کمی کیے بغیر ان کے برابر اس کو ثواب ملے گا، کیونکہ حدیث میں مذکور ہے کہ ایک شخص ایک تھیلا بھر کر امداد میں سامان لایا، جن کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو بھی رغبت ہوئی، اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ امداد لے کر آئے، تب آپ ﷺ نے یہ فرمایا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 203
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الزکاة 20 ( 1017 ) ، العلم 6 ( 2673 ) ، سنن النسائی/الزکاة 64 ( 2555 ) ، ( تحفة الأشراف : 3232 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/العلم 15 ( 2675 ) ، مسند احمد ( 4/357 ، 358 ، 359 ، 362 ) ، سنن الدارمی/المقدمة 44 ( 529 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 204
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : رَجُلٌ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَمَا بَقِيَ فِي الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ كَامِلًا ، وَمِنْ أُجُورِ مَنِ اسْتَنَّ بِهِ ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنِ اسْتَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَاسْتُنَّ بِهِ فَعَلَيْهِ وِزْرُهُ كَامِلًا ، وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ اسْتَنَّ بِهِ ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب دلائی ، ایک صحابی نے کہا : میرے پاس اتنا اتنا مال ہے ، راوی کہتے ہیں : اس مجلس میں جو بھی تھا اس نے تھوڑا یا زیادہ ضرور اس پر صدقہ کیا ، تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کے عمل کا پورا ثواب ملے گا ، اور ان لوگوں کا ثواب بھی اس کو ملے گا جو اس سنت پر چلے ، ان کے ثوابوں میں کوئی کمی بھی نہ کی جائے گی ، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا ، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا ، تو اس پر اس کا پورا گناہ ہو گا ، اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس پر ہو گا جنہوں نے اس غلط طریقہ پر عمل کیا ، اور اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 204
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14443 ، ومصباح الزجاجة : 74 ) ، مسند احمد ( 2/520 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ فَاتُّبِعَ ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَهُ ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا ، وَأَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى هُدًى فَاتُّبِعَ ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی طرف بلایا ، اور لوگ اس کے پیچھے ہو لیے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ہو گا ، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی ، اور جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور لوگ اس کے ساتھ ہو گئے ، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والے کو اور اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: شرک و بدعت، شرع میں حرام و ناجائز چیزیں اور فسق و فجور کی ساری باتیں گمراہی میں داخل ہیں کہ اس کی طرف دعوت دینے والے پر اس کے متبعین کا بھی عذاب ہو گا، اور خود وہ اپنے گناہوں کی سزا بھی پائے گا، اور ہدایت میں توحید و اتباع سنت اور ساری سنن و واجبات و فرائض داخل ہیں، اس کی طرف دعوت دینے والے کو ان باتوں کے ماننے والوں کا ثواب ملے گا، اور خود اس کے اپنے اعمال حسنہ کا ثواب، اس لئے داعی الی اللہ کے لئے جہاں یہ اور اس طرح کی حدیث میں فضیلت ہے وہاں علمائے سوء اور دعاۃ باطل کے لئے سخت تنبیہ بھی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 851 ، ومصباح الزجاجة : 75 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/تفسیر القرآن 38 ( 3228 ) ، سنن الدارمی/المقدمة 44 ( 530 ) ( صحیح ) » ( اس سند میں سعد بن سنان ضعیف ہیں ، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ فَعَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنَ آثَامِهِمْ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی ہدایت کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جس نے اس کی اتباع کی ، اور اس سے ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی ، اور جو کسی گمراہی کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی اتباع کرنے والوں کو ہو گا ، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 206
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14039 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/العلم 6 ( 2674 ) ، سنن ابی داود/السنة 7 ( 4609 ) ، سنن الترمذی/العلم 15 ( 2675 ) ، سنن الدارمی/المقدمة 44 ( 2674 ) ، مسند احمد ( 2/397 ) ( صحیح ) »
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا ، وَمِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ ، وَمِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور اس کے بعد لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کا اجر ملے گا ، اور عمل کرنے والوں کے برابر بھی اجر ملے گا ، اور عمل کرنے والوں کے ثواب سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی ، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا ، اور اس کے بعد اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اس پر اس کا گناہ ہو گا ، اور عمل کرنے والوں کے مثل بھی گناہ ہو گا ، اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11800 ، ومصباح الزجاجة : 76 ) ( حسن صحیح ) » ( سند میں اسماعیل بن خلیفہ ابو اسرائیل الملائی ضعیف ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ، انہیں شواہد میں سے جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی صحیح مسلم کی حدیث ہے ، ملاحظہ ہو : 4/2059 )
حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ ، إِلَّا وُقِفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا لِدَعْوَتِهِ مَا دَعَا إِلَيْهِ ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی بھی کسی چیز کی طرف بلاتا ہے ، قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ وہ اپنی دعوت کو لازم پکڑے ہو گا ، چاہے کسی ایک شخص نے ایک ہی شخص کو بلایا ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 208
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،ليث ھو ابن أبي سليم: ضعفه الجمهور ‘‘ وھو ضعيف مدلس, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12221 ، ومصباح الزجاجة : 77 ) ( ضعیف ) » ( سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں )