حدیث نمبر: 996
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا ، وَلِلثَّانِي مَرَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار مغفرت کی دعا کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 996
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن النسائی/الإمامة 29 ( 818 )، ( تحفة الأشراف: 9884 )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 4/126، 127، 128 )، سنن الدارمی/الصلاة 50 ( 1300 ) ( صحیح )»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 818

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پہلی صف کی فضیلت۔`
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار مغفرت کی دعا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 996]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نیکی کے کام میں مسابقت ایک اچھا کام اور شرعاً مطلوب ہے۔

(2)
اچھے کام کی ترغیب کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کام کے کرنے والے کو دعا دی جائے۔

(3)
جس طرح پہلی صف دوسری سے افضل ہے۔
اس طرح دوسری صف بھی تیسری سے افضل ہے۔
کیونکہ دوسری صف کےلئے دعا کی گئی اور تیسری صف والوں کے لئے نہیں کی گئی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 996 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 818 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´پہلی صف کی دوسری صف پر فضیلت کا بیان۔`
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار دعا فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 818]
818۔ اردو حاشیہ: ➊ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ صف اول میں جگہ پانا اس قدر فضیلت والا عمل ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی صف والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی ہے لہٰذا پہلی صف میں جگہ پانے کی ہر نمازی کو کوشش کرنی چاہیے۔
➋ یہ وہی فرق ہے جو آپ نے حج و عمرے میں محلقین اور مقصرین (بال منڈوانے والوں اور کتروانے والوں) کے درمیان کیا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 818 سے ماخوذ ہے۔