حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : حَدَّثَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّ آخِرَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری بات جو مجھ سے کہی وہ یہ تھی : ” لوگوں کی جب امامت کرو تو نماز ہلکی پڑھاؤ “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 988
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصلاة 37 ( 468 )، ( تحفة الأشراف: 9766 )، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 40 ( 531 )، سنن النسائی/الأذان 32 ( 673 )، مسند احمد ( 4/22 ) ( صحیح )»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 468 | سنن ابن ماجه: 987

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 468 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنی قوم کی امامت کراؤ‘‘۔ میں نے عرض کیا مجھے کچھ جھجک محسوس ہوتی ہے، آپﷺ نے فرمایا: ’’قریب ہوجا‘‘۔ آپﷺ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر اپنی ہتھیلی میرے سینہ پر میرے پستانوں کے درمیان رکھی، پھر فرمایا: ’’پھر جا‘‘ پھرنے کے بعد آپﷺ نے ہتھیلی میری پشت پر میرے کندھوں کے درمیان رکھی، پھر فرمایا: ’’اپنی قوم کی امامت کراؤ اور جو لوگوں کا امام بنے وہ نماز میں تخفیف کرے، کیونکہ ان میں بوڑھے بھی ہوتے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1050]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
(أَنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي)
کے علماء نے مختلف مفہوم مراد لیے ہیں: 1۔
میں امام بن کر عجب اورتکبر میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہوں۔

میں شرم وحیا اور اس کام کی ادائیگی میں کمزوری محسوس کرتا ہوں۔

میں نماز میں وسوسہ میں مبتلا ہو جاتا ہوں، اور اس کی تائید میں عثمان ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت سے ہوتی ہے۔
جس میں یہ آیا ہے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شیطان میری نماز میں حرج ڈال دیتا ہے، مجھے قرآن پڑھتے بھلا دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی برکت سے ان کی یہ خرابی دور ہو گئی۔

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے نماز میں سب لوگوں کو شریک ہونا چاہیے اپنی کمزوری بیماری یا ضرورت کو جماعت سے پیچھے رہنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے اور امام کو بھی اپنے مقتدیوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1050 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 468 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے آخری وصیت اور تلقین یہ فرمائی تھی، ’’جب لوگوں کی امامت کرو تو اس میں تخفیف کا خیال رکھنا (نماز ہلکی پڑھانا)۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1051]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
عَهِدَ إِلَيْهِ: (س)
اس کو وصیت وتلقین کی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1051 سے ماخوذ ہے۔