سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَجِبُ عَلَى الإِمَامِ باب: امام کی ذمہ داری کیا ہے؟
حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُمِّ غُرَابٍ ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا : عَقِيلَةُ ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُومُونَ سَاعَةً لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے ، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´امام کی ذمہ داری کیا ہے؟`
خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 982]
خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 982]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہ ر وایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم معنوی طور پر صحیح ہے۔
اس لئے کہ قرب قیامت شرعی علم کی ناقدری ہو جائے گی۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک دوسرے سے کہے گا کہ تم امامت کراؤ میں اس کا اہل نہیں ہوں کیونکہ وہ سب علم شریعت سے بے بہرہ ہوں گے۔
اس لے جو صاحب صلاحیت ہو، یعنی علم وفضل سے بہرہ ور ہو تو بلا وجہ اس پر عمل نہ کرے۔
فائدہ: یہ ر وایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم معنوی طور پر صحیح ہے۔
اس لئے کہ قرب قیامت شرعی علم کی ناقدری ہو جائے گی۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک دوسرے سے کہے گا کہ تم امامت کراؤ میں اس کا اہل نہیں ہوں کیونکہ وہ سب علم شریعت سے بے بہرہ ہوں گے۔
اس لے جو صاحب صلاحیت ہو، یعنی علم وفضل سے بہرہ ور ہو تو بلا وجہ اس پر عمل نہ کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 982 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 581 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´امامت سے بچنا اور امامت کے لیے ایک کا دوسرے کو آگے بڑھانا مکروہ ہے۔`
خرشہ بن حر فزاری کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے۔" [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 581]
خرشہ بن حر فزاری کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے۔" [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 581]
581۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم معنوی طور پر اس لئے صحیح ہے کہ قیامت کے قریب شرعی علم کی ناقدری ہو جائے گی۔ اس کا یہ نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر ایک دوسرے کو کہے گا کہ تم امامت کراؤ، میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ کیونکہ وہ سب علم شریعت سے بےبہرہ ہوں گے۔ اس لئے جو صاحب صلاحیت ہو یعنی علم و فضل سے بہرہ ور ہو تو بلاوجہ اس عمل سے انکار نہ کرے۔ نیز مسلمانوں کو ایسے افراد تیار کرتے رہنا چاہیے جو ان کے دینی امور کے کفیل بن سکیں۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم معنوی طور پر اس لئے صحیح ہے کہ قیامت کے قریب شرعی علم کی ناقدری ہو جائے گی۔ اس کا یہ نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر ایک دوسرے کو کہے گا کہ تم امامت کراؤ، میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ کیونکہ وہ سب علم شریعت سے بےبہرہ ہوں گے۔ اس لئے جو صاحب صلاحیت ہو یعنی علم و فضل سے بہرہ ور ہو تو بلاوجہ اس عمل سے انکار نہ کرے۔ نیز مسلمانوں کو ایسے افراد تیار کرتے رہنا چاہیے جو ان کے دینی امور کے کفیل بن سکیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 581 سے ماخوذ ہے۔