سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الإِمَامَ باب: امام کے قریب کن لوگوں کا رہنا مستحب ہے؟
حدیث نمبر: 977
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَار لِيَأْخُذُوا عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب کھڑے ہوں ، تاکہ آپ سے دین کی باتیں سیکھ سکیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ یہ عقل اور علم و فضل میں اور لوگوں سے آگے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´امام کے قریب کن لوگوں کا رہنا مستحب ہے؟`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب کھڑے ہوں، تاکہ آپ سے دین کی باتیں سیکھ سکیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 977]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب کھڑے ہوں، تاکہ آپ سے دین کی باتیں سیکھ سکیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 977]
اردو حاشہ:
فوائد مسائل: (1)
مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کو زیادہ اہمیت دینے کیوجہ یہ تھی۔
کہ وہ عقل اور حافظہ کے لحاظ سے عام لوگوں سے برتر تھے۔
چنانچہ ایسے حضرات اگر نبی اکرمﷺ کے قریب کھڑے ہوں گے تو وہ مسائل کو اچھی طرح سمجھ کر یاد رکھ سکیں گے۔
اور دوسرو ں کو بھی سمجھا سکیں گے۔
جب کہ آبادی سے دور رہنے والے اور کبھی کبھار حاضر خدمت ہونے والے ان صلاحیتوں میں اس مقام پر فائز نہیں تھے۔
وہ لوگ ضرورت پڑنے پر نبی اکرم ﷺ سےيا کبار صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین سے مسائل پوچھ سکتے تھے۔
فوائد مسائل: (1)
مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کو زیادہ اہمیت دینے کیوجہ یہ تھی۔
کہ وہ عقل اور حافظہ کے لحاظ سے عام لوگوں سے برتر تھے۔
چنانچہ ایسے حضرات اگر نبی اکرمﷺ کے قریب کھڑے ہوں گے تو وہ مسائل کو اچھی طرح سمجھ کر یاد رکھ سکیں گے۔
اور دوسرو ں کو بھی سمجھا سکیں گے۔
جب کہ آبادی سے دور رہنے والے اور کبھی کبھار حاضر خدمت ہونے والے ان صلاحیتوں میں اس مقام پر فائز نہیں تھے۔
وہ لوگ ضرورت پڑنے پر نبی اکرم ﷺ سےيا کبار صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین سے مسائل پوچھ سکتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 977 سے ماخوذ ہے۔