سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : الاِثْنَانِ جَمَاعَةٌ باب: دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 974
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، فَجِئْتُ ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھ رہے تھے میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھی آپ ﷺ نے اسی طرح دائیں طرف کر لیا، ایک ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کی طرف سے گھما کر، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز اس قدر عمل کرنے سے فاسد نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 974
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شرحبيل بن سعد: ضعيف, ولبعض الحديث شواھد عند ابن خزيمة (1532۔1674) و مسلم (3008) وغيرهما, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھ رہے تھے میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 974]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھ رہے تھے میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 974]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم صحیح مسلم کی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
علاوہ ازیں اس حدیث کے بعض حصوں کے شواہد صحیح ابن خزیمہ میں ہیں بنا بریں یہ روایت قابل عمل اور قابل حجت ہے تفصیل کےلئے دیکھئے: تحقیق وتخریج حدیث ہذا۔
فائدہ: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم صحیح مسلم کی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
علاوہ ازیں اس حدیث کے بعض حصوں کے شواہد صحیح ابن خزیمہ میں ہیں بنا بریں یہ روایت قابل عمل اور قابل حجت ہے تفصیل کےلئے دیکھئے: تحقیق وتخریج حدیث ہذا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 974 سے ماخوذ ہے۔