سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟
حدیث نمبر: 964
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنَ الْجَفَاءِ أَنْ يُكْثِرَ الرَّجُلُ مَسْحَ جَبْهَتِهِ قَبْلَ الْفَرَاغِ مِنْ صَلَاتِهِ " .<brڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ بدسلوکی اور بےرخی کی بات ہے کہ آدمی نماز ختم کرنے سے پہلے اپنی پیشانی پر باربار ہاتھ پھیرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ بدسلوکی اور بےرخی کی بات ہے کہ آدمی نماز ختم کرنے سے پہلے اپنی پیشانی پر باربار ہاتھ پھیرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 964]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ بدسلوکی اور بےرخی کی بات ہے کہ آدمی نماز ختم کرنے سے پہلے اپنی پیشانی پر باربار ہاتھ پھیرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 964]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ حدیث ہارون تیمی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
تاہم بلا ضرورت باربار کی حرکات سے اجتناب کا حکم صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، المساجد، باب کراھة مسح الحصی وتسویة التراب فی الصلاة، حدیث: 546)
فوائد و مسائل:
یہ حدیث ہارون تیمی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
تاہم بلا ضرورت باربار کی حرکات سے اجتناب کا حکم صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، المساجد، باب کراھة مسح الحصی وتسویة التراب فی الصلاة، حدیث: 546)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 964 سے ماخوذ ہے۔