سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ باب: نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے۔
حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا ، قَالَتْ : " كَانَ فِرَاشُهَا بِحِيَالِ مَسْجَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ان کا بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ کے بالمقابل ہوتا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ کے بالمقابل ہوتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 957]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ کے بالمقابل ہوتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 957]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز پڑھتے وقت اگر نمازی کی بیوی قریب لیٹی ہوئی ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اس صورت میں یہ شبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نماز کے دوران میں اس کی طرف توجہ ہونے کا اندیشہ ہے اگر واقعی اس قسم کی صورت حال پیش آ جائے کہ نماز کی طرف کما حقہ توجہ نہ رہ سکے تو اجتناب کرسکتا ہے ورنہ جواز میں کوئی شبہ نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
نماز پڑھتے وقت اگر نمازی کی بیوی قریب لیٹی ہوئی ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اس صورت میں یہ شبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نماز کے دوران میں اس کی طرف توجہ ہونے کا اندیشہ ہے اگر واقعی اس قسم کی صورت حال پیش آ جائے کہ نماز کی طرف کما حقہ توجہ نہ رہ سکے تو اجتناب کرسکتا ہے ورنہ جواز میں کوئی شبہ نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 957 سے ماخوذ ہے۔