سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ باب: کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
حدیث نمبر: 950
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ : الْمَرْأَةُ ، وَالْكَلْبُ ، وَالْحِمَارُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت ، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 511 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عورت، گدھا اور (سیاہ) کتا نماز توڑ دیتے ہیں اور پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز اس کی حفاظت کرتی ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1139]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: گدھا، سیاہ کتا اور عورت کی طرف دیکھنے سے انسان کی سوچ و فکر یا ذہن متاثر ہوتا ہے، گدھے اور کتے سے شر اور نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے اور عورت جنسی کشش رکھتی ہے، اس لیے نماز کا خشوع اور خضوع اور توجہ برقرار نہیں رہتی اور نماز میں یہی چیزیں مطلوب ہیں اس لیے اس کو نماز کے ٹوٹنے سے تعبیر کر دیا گیا ہے۔
اگر یہ چیزیں سترہ سے پرے یا دور ہوں تو ان کی طرف توجہ نہیں ہوتی اس لیے نماز متاثر نہیں ہوتی بہرحال جمہور کے نزدیک نماز باطل نہیں ہوتی اس میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور عربی محاورہ کے مطابق اس کو ٹوٹنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اگر یہ چیزیں سترہ سے پرے یا دور ہوں تو ان کی طرف توجہ نہیں ہوتی اس لیے نماز متاثر نہیں ہوتی بہرحال جمہور کے نزدیک نماز باطل نہیں ہوتی اس میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور عربی محاورہ کے مطابق اس کو ٹوٹنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 511 سے ماخوذ ہے۔