حدیث نمبر: 929
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَمَّنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ جَانِبَيْهِ جَمِيعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے مڑتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ نماز سے فارغ ہو کر جدھر جی چاہے ادھر مقتدیوں کی طرف مڑ جائے، یہ ضروری نہیں کہ دائیں طرف ہی مڑے، اگرچہ دائیں طرف مڑنا بہتر ہے، لیکن واجب نہیں ہے کہ ہمیشہ ایسا ہی کرے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 929
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 204 ( 1041 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 110 ( 301 ) ، ( تحفة الأشراف : 11733 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/226 ، 227 ) ( حسن صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 301

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف پھرنے کا بیان۔`
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے مڑتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 929]
اردو حاشہ:
فائدہ: نماز سے فارغ ہوکر امام کا قبلے سے رخ پھیر کر مقتدیوں کی طرف منہ کرکے بیٹھنا مسنون ہے۔
اس مقصد کےلئے دایئں طرف سے بھی گھوم کر مقتدیوں کی طرف منہ کیا جا سکتا ہے۔
اور بایئں طرف سے بھی دونوں طرح درست ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 929 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 301 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´(کبھی) اپنے دائیں سے اور (کبھی) اپنے بائیں سے پلٹنے کا بیان۔`
ہلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے (تو سلام پھیرنے کے بعد) اپنے دونوں طرف پلٹتے تھے (کبھی) دائیں اور (کبھی) بائیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 301]
اردو حاشہ:
1؎:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ((لَقَدْ رَأيْتُ رَسُولُ اللَّه صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيراً يَنْصَرِفُ عنْ يَسَارِهِ)) اور انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ((أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ)) بظاہر ان دونوں روایتوں میں تعارض ہے، تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ دونوں نے اپنے اپنے علم اور مشاہدات کے مطابق یہ بات کہی ہے۔

نوٹ:
(سند میں قبیصۃ بن ہلب لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں اس باب میں مروی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث (د/الصلاۃ 204حدیث رقم: 1042) سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 301 سے ماخوذ ہے۔