حدیث نمبر: 920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ، فَسَلَّمَ مَرَّةً وَاحِدَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز پڑھی تو ایک مرتبہ سلام پھیرا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 920
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لضعف يحيي بن راشد ‘‘ يعني المازني البراء: ضعيف (تقريب: 7545), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ایک سلام پھیرنے کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز پڑھی تو ایک مرتبہ سلام پھیرا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 920]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ باب میں تینوں روایات ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سنداً ضعیف ہیں۔
جبکہ مسئلہ فی نفسہ درست ہے۔
کیونکہ یہ دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے۔
دیکھئے: (مسند احمد، 236/6 وسنن ابی داؤد، التطوع، باب فی صلاۃ اللیل، حدیث: 1345)
غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (صحیح ابن ماجه حدیث: 920، 919، 918)

(2)
سامنے کی طرف سلام کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح دونوں طرف سلام پھیرتے وقت چہرہ پوری طرح پھیرا جاتاہے۔
اس طرح نہیں پھیرا بلکہ تھوڑا سا دایئں منہ پھیرا، جیسے حدیث: 914 کے فوائد میں ذکر ہوا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 920 سے ماخوذ ہے۔