سنن ابن ماجه
كتاب السنة— کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
بَابٌ في الْقَدَرِ باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُكَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللَّهِ ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ ، وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں ، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو ، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو ، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: نبی اکرم ﷺ نے تقدیر کے منکرین کو مجوس سے اس لئے تشبیہ دی کہ وہ دو خالق کے قائل ہیں: ایک خیر کا خالق ہے، اس کا نام یزدان ہے، اور دوسرا شر کا خالق ہے، اس کا نام اہرمن ہے، اور قدریہ خالق سے خلق کے اختیار کو سلب کرتے ہیں اور خلق کو ہر مخلوق کے لئے ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ شر کا خالق نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ پر اصلح (زیادہ بہتر کام) واجب ہے، اور اسی لئے علمائے اہل سنت نے کہا ہے کہ معتزلہ مجوس سے بدتر ہیں اس لئے کہ وہ دو ہی خالق اور الٰہ کے قائل ہیں اور معتزلہ بہت سے خالقوں کے قائل ہیں کہ وہ ہر انسان کو اپنے افعال کا خالق قرار دیتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 92]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 92]
اردو حاشہ: (1)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، تاہم شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے شواہد کی بنیاد پر اسی روایت کے آخری جملے (وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا ...)
کے بغیر حسن کہا ہے۔
دیکھئے: (تخريج احاديث المشكوة، حديث: 107، وضلال الجنة في تخريج السنة، حديث: 328)
(2)
منکرین تقدیر کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف خیر کا خالق ہے، شر کا خالق انسان ہے۔
اس طرح انہوں نے گویا ہر انسان کو خالق مان لیا۔
مجوسی دو خداؤں کے قائل ہیں ایک خیر کا خالق (یزدان)
اور ایک برائی کا خالق (اہرمن۔)
اس طرح یہ دونوں (منکرین تقدیر اور مجوس)
شر کاً خالق اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی اور کو مانتے ہیں جب کہ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور بدی، خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، اور بندہ ان اعمال کا فاعل اور کرتکب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بندے کو نیکی اور بدی کرنے کی طاقت بخشی ہےاور اسے دونوں میں سے کوئی ایک راستہ منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے۔
کوئی فرد نفس امارہ اور شیطان کے دھوکے میں آ کر غلط راہ منتخب کر لیتا ہے اور اللہ کو ناراض کر کے سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔
کوئی اللہ کی توفیق سے سیدھی راہ پر چلتا اور اللہ کو راضی کر کے اس کے انعامات کا مستحق بن جاتا ہے۔
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے، تاہم شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے شواہد کی بنیاد پر اسی روایت کے آخری جملے (وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا ...)
کے بغیر حسن کہا ہے۔
دیکھئے: (تخريج احاديث المشكوة، حديث: 107، وضلال الجنة في تخريج السنة، حديث: 328)
(2)
منکرین تقدیر کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف خیر کا خالق ہے، شر کا خالق انسان ہے۔
اس طرح انہوں نے گویا ہر انسان کو خالق مان لیا۔
مجوسی دو خداؤں کے قائل ہیں ایک خیر کا خالق (یزدان)
اور ایک برائی کا خالق (اہرمن۔)
اس طرح یہ دونوں (منکرین تقدیر اور مجوس)
شر کاً خالق اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی اور کو مانتے ہیں جب کہ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور بدی، خیر اور شر دونوں کا خالق ہے، اور بندہ ان اعمال کا فاعل اور کرتکب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بندے کو نیکی اور بدی کرنے کی طاقت بخشی ہےاور اسے دونوں میں سے کوئی ایک راستہ منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے۔
کوئی فرد نفس امارہ اور شیطان کے دھوکے میں آ کر غلط راہ منتخب کر لیتا ہے اور اللہ کو ناراض کر کے سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔
کوئی اللہ کی توفیق سے سیدھی راہ پر چلتا اور اللہ کو راضی کر کے اس کے انعامات کا مستحق بن جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 92 سے ماخوذ ہے۔