حدیث نمبر: 91
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ : الْعَمَلُ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ، أَمْ فِي أَمْرٍ مُسْتَقْبَلٍ ؟ قَالَ : " بَلْ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ، وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے ، اور جو جاری ہو چکی ہے ؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہو چکا ہے ، اور جو جاری ہو چکی ہے ، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب السنة / حدیث: 91
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3819 ، ومصباح الزجاجة : 35 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/197 ) ( صحیح ) » ( اس حدیث میں مجاہد اور سراقہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے ، لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : السنة لابن ابی عاصم : 169 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔`
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 91]
اردو حاشہ:
انسان کے نیک اور بد ہونے کا تعلق بھی تقدیر سے ہے لیکن بندے کو اس کا علم نہیں۔
وہ شریعت کے مطابق عمل کرنے کا مکلف ہے۔
مزید وضاحت کے لیے حدیث 76 کے فوائد ملاحظہ فرمائیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 91 سے ماخوذ ہے۔