حدیث نمبر: 908
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا ، وہ جنت کا راستہ بھول گیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 908
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, جبارة بن مغلس: ضعيف جدًا و للحديث شواھد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410, -
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5391 ، ومصباح الزجاجة : 331 ) ( حسن صحیح ) » ( سند میں جبار بن مغلس ضعیف ہیں ، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 2337 ، وفضل الصلاة علی النبی ﷺ : ص 46 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا، وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 908]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کوسنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (الصحیحه رقم: 2337،  وفضل الصلاۃ علی النبی ﷺ بتحقیق شیخ البانی ؒرقم: 42، 41)

(2)
نیکیاں جنت میں لے جاتی ہیں۔
جو شخص درود جیسی عظیم نیکی سے غفلت کرتا ہے۔
وہ دوسری بہت سے نیکیوں سے بھی غافل ہوگا۔
اور ایسے شخص کاجنت میں جانا مشکل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 908 سے ماخوذ ہے۔