سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا صَلَّى عَلَيَّ ، فَلْيُقِلَّ الْعَبْدُ مِنْ ذَلِكَ ، أَوْ لِيُكْثِرْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں ، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان۔`
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 907]
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 907]
اردو حاشہ:
فائدہ: اس حدیث سے درود شریف کی فضیلت اور فائدہ واضح ہوتا ہے۔
اور اس میں بکثرت درود پڑھنے کی ترغیب ہے۔
درود کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
اس لئے بعض حضرات نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام احمد بن حنبل ؒ: 452، 451/24)
فائدہ: اس حدیث سے درود شریف کی فضیلت اور فائدہ واضح ہوتا ہے۔
اور اس میں بکثرت درود پڑھنے کی ترغیب ہے۔
درود کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
اس لئے بعض حضرات نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام احمد بن حنبل ؒ: 452، 451/24)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 907 سے ماخوذ ہے۔