سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ باب: تشہد کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : " بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ ، التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ " .
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد ایسے سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے تھے : «التحيات لله والصلوات والطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل الله الجنة وأعوذ بالله من النار» ” اللہ کے نام اور اس کی مدد سے ، آداب بندگیاں اللہ کے لیے ہیں ، اور نماز اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لیے ہیں ، اے نبی ! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت ، اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، اور سلام ہو ہم پر ، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے ، اور رسول ہیں ، میں اللہ سے جنت کا طلبگار ہوں ، اور جہنم سے پناہ چاہتا ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد پڑھنا سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ پڑھنا سکھاتے، فرماتے: «بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل اللہ الجنة وأعوذ باللہ من النار» ۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1176]
➋ تمام تشہد تین چیزوں پر مشتمل ہیں: اللہ کی مجد و ثنا، نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے صالحین پر سلام اور شہادتین (توحید و رسالت۔)
➌ آخری قسم کے تشہد کے شروع اور آخر میں اضافے (زائد کلمات) ہیں۔ شروع میں بسم اللہ اور آخر میں سوال و تعوذ، مگر اس حدیث کا راوی ایمن بن نابل متفرد ہے۔ کسی نے اس کی موافقت نہیں کی، لہٰذا یہ غیر معتبر ہے، یعنی یہ حدیث ضعیف ہے۔
➍ تمام قسم کے تشہدات میں نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بصیغۂ خطاب سلام کہا گیا ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے ورنہ خطاب سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ کہا: جا سکتا ہے کہ صرف صیغہ خطاب کا ہے مقصود خطاب نہیں بلکہ دعا ہے کیونکہ آپ خود بھی انھی الفاظ سے تشہد پڑھا کرتے تھے۔ ان الفاظ کو پڑھتے وقت یہ عقیدہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ سلام سن رہے ہیں۔ ہاں، آپ کو پہنچایا جائے تو الگ بات ہے۔ اسی طرح آپ کے جوابی سلام کا بھی کوئی ذکر نہیں۔
➎ «عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اوصاف فاضلہ میں سے یہ دو وصف سب سے اعلیٰ ہیں، تبھی انہیں شہادتین میں داخل کیا گیا جو کہ کسی کے ایمان کی دلیل ہیں۔ «عَبْدُ» بہت بڑا اعزاز ہے، اس لیے ہر افضل مقام میں اس کا ذکر کیا گیا ہے، مثلاً: معراج و اسرا وغیرہ۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ نجم «أَسْرَى بِعَبْدِهِ» [بني إسرائیل: 1: 17] اور «فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ» [النجم: 10: 53]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تشہد اسی طرح سکھاتے تھے، جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے «بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأن محمدا عبده ورسوله وأسأل اللہ الجنة وأعوذ به من النار» " اللہ کے نام سے اور اسی کے واسطے سے، تمام قولی فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو آپ پر، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں اللہ سے جنت مانگتا ہوں، اور آگ (جہنم) سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اس روایت پر ایمن بن نابل کی متابعت کی ہو، ایمن ہمارے نزدیک قابل قبول ہیں، لیکن حدیث میں غلطی ہے، ہم اللہ سے توفیق کے طلب گار ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1282]