سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 893
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا ، فَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا ، وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے ، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے ، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے ، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 893]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 893]
اردو حاشہ:
فوائد و وسائل: (1)
رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا ’’قومہ‘‘ کہلاتا ہے۔
اس مقام پر پڑھی جانے والی بعض دعایئں۔
باب 18 میں بیان ہوچکی ہیں۔
دونوںسجدوں کےدرمیان بیٹھنا ’’جلسہ‘‘ کہلاتاہے۔
اس کے اذکار باب: 23 میں بیان ہوں گے۔
(2)
قومہ اور جلسہ نماز کا اسی طرح ضروری حصہ ہیں۔
جس طرح رکوع اور سجدہ نماز کے لئے ضروری اجزاء ہیں۔
رسول اللہ ﷺنے نماز میں غلطی کرنے والے صحابی کو اس کی غلطیوں پر متنبہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
’’۔
۔
۔
پھر رکوع کر حتیٰ کہ اطمینان سے رکوع کرلے، پھر سراٹھا حتیٰ کہ ٹھیک کھڑا ہوجائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرلے۔
پھر سراٹھا حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جائے۔
پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرلے۔
۔
۔‘‘ (صحیح البخاري، الأذان، باب أمرالنبی ﷺ الذی لایتم رکوعه بالإعادۃ، حدیث: 793)
(3)
سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھا جائے۔
اور دایاں پاؤں کھڑا رکھا جائے۔
آخری تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے بایاں پاؤں دایئں پاؤں کے نیچے سے نکال دیاجائے۔
اورزمین پر بیٹھا جائے۔
دیکھيے: (صحیح البخاري، الأذان، باب سنة الجلوس فی التشھد، حدیث: 828)
فوائد و وسائل: (1)
رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا ’’قومہ‘‘ کہلاتا ہے۔
اس مقام پر پڑھی جانے والی بعض دعایئں۔
باب 18 میں بیان ہوچکی ہیں۔
دونوںسجدوں کےدرمیان بیٹھنا ’’جلسہ‘‘ کہلاتاہے۔
اس کے اذکار باب: 23 میں بیان ہوں گے۔
(2)
قومہ اور جلسہ نماز کا اسی طرح ضروری حصہ ہیں۔
جس طرح رکوع اور سجدہ نماز کے لئے ضروری اجزاء ہیں۔
رسول اللہ ﷺنے نماز میں غلطی کرنے والے صحابی کو اس کی غلطیوں پر متنبہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
’’۔
۔
۔
پھر رکوع کر حتیٰ کہ اطمینان سے رکوع کرلے، پھر سراٹھا حتیٰ کہ ٹھیک کھڑا ہوجائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرلے۔
پھر سراٹھا حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جائے۔
پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرلے۔
۔
۔‘‘ (صحیح البخاري، الأذان، باب أمرالنبی ﷺ الذی لایتم رکوعه بالإعادۃ، حدیث: 793)
(3)
سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھا جائے۔
اور دایاں پاؤں کھڑا رکھا جائے۔
آخری تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے بایاں پاؤں دایئں پاؤں کے نیچے سے نکال دیاجائے۔
اورزمین پر بیٹھا جائے۔
دیکھيے: (صحیح البخاري، الأذان، باب سنة الجلوس فی التشھد، حدیث: 828)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 893 سے ماخوذ ہے۔