سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ باب: رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی دعا (تسبیح) کا بیان۔
حدیث نمبر: 887
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : " لَمَّا نَزَلَتْ : فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ سورة الواقعة آية 74 ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1 ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب آیت کریمہ : «فسبح باسم ربك العظيم» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” اسے اپنے رکوع میں کہا کرو “ ، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» نازل ہوئی تو ہم سے فرمایا : ” اسے اپنے سجدے میں کہا کرو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی رکوع میں «سبحان ربي العظيمِ» اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» کہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 869 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی رکوع اور سجدے میں کیا کہے؟`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب آیت کریمہ: «فسبح باسم ربك العظيم» ”اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو“ (سورۃ الواقعۃ: ۷۴) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے رکوع میں کر لو“، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» ”اپنے بہت ہی بلند رب کے نام پاکیزگی بیان کرو“ (سورۃ الاعلی: ۱) اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے سجدے میں کر لو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 869]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب آیت کریمہ: «فسبح باسم ربك العظيم» ”اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو“ (سورۃ الواقعۃ: ۷۴) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے رکوع میں کر لو“، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» ”اپنے بہت ہی بلند رب کے نام پاکیزگی بیان کرو“ (سورۃ الاعلی: ۱) اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے سجدے میں کر لو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 869]
869۔ اردو حاشیہ:
یہ تسبیحات صحیح اسانید سے ثابت ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود رکوع اور سجود میں یہ تسبیحات پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم۔ حديث 772]
مذکورہ دونوں روایات سنن ابی داود [869] اور [870] شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک سنداً ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ اضافہ ان کے نزدیک صحیح ہے۔ دیکھئے: [مفصل سنن ابي داودوصفة الصّلاة للالباني]
یہ تسبیحات صحیح اسانید سے ثابت ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود رکوع اور سجود میں یہ تسبیحات پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم۔ حديث 772]
مذکورہ دونوں روایات سنن ابی داود [869] اور [870] شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک سنداً ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ اضافہ ان کے نزدیک صحیح ہے۔ دیکھئے: [مفصل سنن ابي داودوصفة الصّلاة للالباني]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 869 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 869 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
رکوع کی دعائیں
آپ رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے (رہتے) تھے۔
دلیل: اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: «ثم ركع فجعل يقول سبحان ربي العظيم .» [صحيح مسلم: 772]
آپ مذکورہ بالا دعا کا نماز میں پڑھنے کا حکم بھی کرتے۔
دلیل: «عن عقبة بن عامر قال: لمانزلت‘فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إجعلوها فى ركوعكم» [ابوداود: 869]
اس کی تسبیح کی تعداد میں امام ذہبی نے اختلاف کیا ہے۔
میمون بن مہران (تابعی) اور زہری (تابعی) فرماتے ہیں کہ رکوع وسجود میں تین تسبیحات سے کم نہیں پڑھنا چاہئے [مصنف ابن ابي شيبه 1/250، رقم 2571]
اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل دعائیں بھی ثابت ہیں۔
«سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ .»
’’اے اللہ! جو ہمارا رب ہے، تو پاک ہے، ہم تیری تعریف کرتے ہیں الٰہی مجھے بخش دے۔“ [صحيح بخاري: 794، 817، صحيح مسلم: 484]
یہ دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے پڑھتے تھے۔
«سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوْحِ .» [صحيح مسلم: 487]
’’وہ ہر عیب سے پاک ہے وہ فرشتوں اور جبریل کا رب ہے۔“
«سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إلهَ إلَّا أَنْتَ .» [صحيح مسلم: 485]
’’اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر تو ہی۔“
«اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِيْ وَبَصَرِيْ وَمُخِّيْ وَعَظْمِيْ وَعَصَبِيْ .» [صحيح مسلم: 771]
’’اے اللہ! میں نے تیرے لئے رکوع کیا تیرے لئے ہی ایمان لایا اور تیرے لئے ہی فرمانبردار ہوا میری سماعت، بصارت، ہڈی اور اس کی مخ اور پٹھے (سب کے سب) تجھ سے ڈر گئے۔“
ان دعاؤں میں سے کوئی دعا بھی پڑھی جا سکتی ہے، ان دعاؤں کا ایک ہی رکوع یا سجدے میں جمع کرنا اور اکٹھا پڑھنا کسی صریح دلیل سے ثابت نہیں۔ تاہم حالت تشہد میں «ثم ليتخير من الدعاء أعجبه إليه فيدعو .» [صحيح بخاري: 835] کی عام دلیل سے ان دعاؤں کا جمع کرنا بھی جائز ہے۔ واللہ أعلم
آپ رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے (رہتے) تھے۔
دلیل: اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: «ثم ركع فجعل يقول سبحان ربي العظيم .» [صحيح مسلم: 772]
آپ مذکورہ بالا دعا کا نماز میں پڑھنے کا حکم بھی کرتے۔
دلیل: «عن عقبة بن عامر قال: لمانزلت‘فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إجعلوها فى ركوعكم» [ابوداود: 869]
اس کی تسبیح کی تعداد میں امام ذہبی نے اختلاف کیا ہے۔
میمون بن مہران (تابعی) اور زہری (تابعی) فرماتے ہیں کہ رکوع وسجود میں تین تسبیحات سے کم نہیں پڑھنا چاہئے [مصنف ابن ابي شيبه 1/250، رقم 2571]
اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل دعائیں بھی ثابت ہیں۔
«سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ .»
’’اے اللہ! جو ہمارا رب ہے، تو پاک ہے، ہم تیری تعریف کرتے ہیں الٰہی مجھے بخش دے۔“ [صحيح بخاري: 794، 817، صحيح مسلم: 484]
یہ دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے پڑھتے تھے۔
«سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوْحِ .» [صحيح مسلم: 487]
’’وہ ہر عیب سے پاک ہے وہ فرشتوں اور جبریل کا رب ہے۔“
«سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إلهَ إلَّا أَنْتَ .» [صحيح مسلم: 485]
’’اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر تو ہی۔“
«اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِيْ وَبَصَرِيْ وَمُخِّيْ وَعَظْمِيْ وَعَصَبِيْ .» [صحيح مسلم: 771]
’’اے اللہ! میں نے تیرے لئے رکوع کیا تیرے لئے ہی ایمان لایا اور تیرے لئے ہی فرمانبردار ہوا میری سماعت، بصارت، ہڈی اور اس کی مخ اور پٹھے (سب کے سب) تجھ سے ڈر گئے۔“
ان دعاؤں میں سے کوئی دعا بھی پڑھی جا سکتی ہے، ان دعاؤں کا ایک ہی رکوع یا سجدے میں جمع کرنا اور اکٹھا پڑھنا کسی صریح دلیل سے ثابت نہیں۔ تاہم حالت تشہد میں «ثم ليتخير من الدعاء أعجبه إليه فيدعو .» [صحيح بخاري: 835] کی عام دلیل سے ان دعاؤں کا جمع کرنا بھی جائز ہے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔