سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا کہے؟
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، يَقُولُ : ذُكِرَتِ الْجُدُودُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : رَجُلٌ جَدُّ فُلَانٍ فِي الْخَيْلِ ، وَقَالَ آخَرُ : جَدُّ فُلَانٍ فِي الْإِبِلِ ، وَقَالَ آخَرُ : جَدُّ فُلَانٍ فِي الْغَنَمِ ، وَقَالَ آخَرُ : جَدُّ فُلَانٍ فِي الرَّقِيقِ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ، وَطَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ بِالْجَدِّ لِيَعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ كَمَا يَقُولُونَ " .
´ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال و دولت کا ذکر چھیڑا ، آپ نماز میں تھے ، ایک شخص نے کہا : فلاں کے پاس گھوڑوں کی دولت ہے ، دوسرے نے کہا : فلاں کے پاس اونٹوں کی دولت ہے ، تیسرے نے کہا : فلاں کے پاس بکریوں کی دولت ہے ، چوتھے نے کہا : فلاں کے پاس غلاموں کی دولت ہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور آخری رکعت کے رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم ربنا ولك الحمد ملئ السموات وملئ الأرض وملئ ما شئت من شيئ بعد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ” اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تیرے لیے تعریف ہے ، آسمانوں بھر ، زمین بھر اور اس کے بعد اس چیز بھر جو تو چاہے ، اے اللہ ! نہیں روکنے والا کوئی اس چیز کو جو تو دے ، اور نہیں دینے والا ہے کوئی اس چیز کو جسے تو روک لے ، اور مالداروں کو ان کی مالداری تیرے مقابلہ میں نفع نہیں دے گی “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جَدّ» کہنے میں اپنی آواز کو کھینچا تاکہ لوگ جان لیں کہ بات ایسی نہیں جیسی وہ کہہ رہے ہیں ۔