سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ باب: رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 874
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْكَعُ فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تھے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے تھے اور بازوؤں کو ( پہلوؤں سے ) دور رکھتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان۔`
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تھے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے تھے اور بازوؤں کو (پہلوؤں سے) دور رکھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 874]
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تھے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے تھے اور بازوؤں کو (پہلوؤں سے) دور رکھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 874]
اردو حاشہ:
فائدہ: رکوع اور سجدہ دونوں میں بازؤوں کو جسم سے دور رکھنا چاہیے۔
جیسے کہ حدیث (880۔
اور886)
میں ذکر ہوگا۔
فائدہ: رکوع اور سجدہ دونوں میں بازؤوں کو جسم سے دور رکھنا چاہیے۔
جیسے کہ حدیث (880۔
اور886)
میں ذکر ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 874 سے ماخوذ ہے۔