حدیث نمبر: 866
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا رَكَعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے ، اور جب رکوع کرتے ، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 866
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 723 ، ومصباح الزجاجة : 318 ) ( صحیح ) » ( اسناد صحیح ہے ، لیکن دار قطنی نے موقوف کو صواب کہا ہے ، اس لئے عبد الوہاب الثقفی کے علاوہ کسی نے اس حدیث کو مرفوعاَ حمید سے روایت نہیں کی ہے ، جب کہ حدیث کی تصحیح ابن خزیمہ اور ابن حبان نے کی ہے ، اور البانی صاحب نے بھی صحیح کہا ہے ، نیز ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : 724 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1055 | سنن نسائي: 1180

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1055 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´رکوع اچھی طرح کرنے کے حکم کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1055]
1055۔ اردو حاشیہ: ➊ مکمل کرنے سے مراد اعتدال، اطمینان اور تسبیحات و اذکار کا پڑھنا ہے جن کی تفصیل سابقہ احادیث میں گزر چکی ہے۔
➋ امام کو گاہے گاہے نماز کے احکام کی تلقین کرتے رہنا چاہیے، خصوصاً جب مقتدی ارکان نماز صحیح طریقے سے ادا نہ کر رہے ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1055 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1180 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دوسری رکعت سے اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن اصم کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں اللہ اکبر کہنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر کہے جب رکوع میں جائے، اور جب سجدہ میں جائے، اور جب سجدہ سے سر اٹھائے، اور جب دوسری رکعت سے اٹھے۔ حطیم نے پوچھا: آپ نے اسے کس سے سن کر یاد کیا ہے، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے، پھر وہ خاموش ہو گئے، تو حطیم نے ان سے کہا، اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ انہوں نے کہا: اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1180]
1180۔ اردو حاشیہ: تکبیر تحریمہ تو متفق علیہ ہے، نیز اس میں کوئی سستی نہیں کرتا تھا، اس لیے اس کا ذکر نہیں کیا۔ باقی تکبیرات میں بعض ائمہ سستی کر جاتے تھے، اس لیے ان کا ذکر فرما دیا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1180 سے ماخوذ ہے۔