سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ باب: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان۔
حدیث نمبر: 865
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رِيَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 787 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
787. حضرت عکرمہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک آدمی کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ جب بھی جھکتا، اٹھتا، کھڑا ہوتا یا بیٹھتا تو تکبیر کہتا۔ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو بتایا تو انہوں نے فرمایا: تیری ماں نہ ہو، کیا یہ نبی ﷺ کی سی نماز نہیں ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:787]
حدیث حاشیہ: یعنی یہ نماز تو آنحضرت ﷺ کی نماز کے عین مطابق ہے اور تو اس پر تعجب کرتا ہے۔
لا أم لك عرب لوگ زجر و توبیخ کے وقت بولتے ہیں جیسے ثکلتك امک یعنی تیری ماں تجھ پر روئے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عکرمہ پر خفا ہوئے کہ تو اب تک نماز کا پورا طریقہ نہیں جانتا اور ابوہریرہ ؓ جیسے فاضل پر انکار کرتا ہے۔
لا أم لك عرب لوگ زجر و توبیخ کے وقت بولتے ہیں جیسے ثکلتك امک یعنی تیری ماں تجھ پر روئے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عکرمہ پر خفا ہوئے کہ تو اب تک نماز کا پورا طریقہ نہیں جانتا اور ابوہریرہ ؓ جیسے فاضل پر انکار کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 787 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 787 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
787. حضرت عکرمہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک آدمی کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ جب بھی جھکتا، اٹھتا، کھڑا ہوتا یا بیٹھتا تو تکبیر کہتا۔ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو بتایا تو انہوں نے فرمایا: تیری ماں نہ ہو، کیا یہ نبی ﷺ کی سی نماز نہیں ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:787]
حدیث حاشیہ:
(1)
پہلے بیان ہوا کہ بنو امیہ کے حکمرانوں نے تکبیرات انتقال کو ترک کر دیا تھا یا وہ بالکل آہستہ کہتے تھے، اس لیے محدثین نے تکبیر انتقال کے متعلق عنوان بندی کر کے ان کی حیثیت کو واضح کیا تاکہ یہ سنت کہیں بالکل متروک نہ ہو جائے۔
دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ یہ تکبیرات، انتقال کی ابتدا سے لے کر انتہا تک حاوی ہونی چاہئیں۔
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ سجدے کے لیے جب اللہ اکبر کہا جاتا ہے تو سجدے میں پہنچنے سے پہلے پہلے ہی اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے تنبیہ فرما دی ہے کہ سجدے میں جاتے وقت پورے طور پر تکبیر کہنی چاہیے، یعنی اللہ اکبر پورے انتقال کو حاوی ہونا چاہیے۔
(2)
حضرت ابن عباس ؓ نے عکرمہ سے کہا کہ تیری ماں نہ رہے اس سے حقیقت مراد نہ تھی اور نہ کوئی بددعا دینا ہی مقصود تھا بلکہ یہ ایک محاورہ ہے جسے عرب لوگ ڈانٹ ڈپٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس سے حقیقت مراد نہیں ہوتی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اپنے ہونہار شاگرد حضرت عکرمہ کو اس لیے ڈانٹ پلائی کہ اسے اس سنت کا علم نہیں تھا، حالانکہ اس کا تعلق روزمرہ کی نماز سے ہے۔
(1)
پہلے بیان ہوا کہ بنو امیہ کے حکمرانوں نے تکبیرات انتقال کو ترک کر دیا تھا یا وہ بالکل آہستہ کہتے تھے، اس لیے محدثین نے تکبیر انتقال کے متعلق عنوان بندی کر کے ان کی حیثیت کو واضح کیا تاکہ یہ سنت کہیں بالکل متروک نہ ہو جائے۔
دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ یہ تکبیرات، انتقال کی ابتدا سے لے کر انتہا تک حاوی ہونی چاہئیں۔
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ سجدے کے لیے جب اللہ اکبر کہا جاتا ہے تو سجدے میں پہنچنے سے پہلے پہلے ہی اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے تنبیہ فرما دی ہے کہ سجدے میں جاتے وقت پورے طور پر تکبیر کہنی چاہیے، یعنی اللہ اکبر پورے انتقال کو حاوی ہونا چاہیے۔
(2)
حضرت ابن عباس ؓ نے عکرمہ سے کہا کہ تیری ماں نہ رہے اس سے حقیقت مراد نہ تھی اور نہ کوئی بددعا دینا ہی مقصود تھا بلکہ یہ ایک محاورہ ہے جسے عرب لوگ ڈانٹ ڈپٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس سے حقیقت مراد نہیں ہوتی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اپنے ہونہار شاگرد حضرت عکرمہ کو اس لیے ڈانٹ پلائی کہ اسے اس سنت کا علم نہیں تھا، حالانکہ اس کا تعلق روزمرہ کی نماز سے ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 787 سے ماخوذ ہے۔