سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ باب: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان۔
حدیث نمبر: 864
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو أَيُّوبَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے مقابل اٹھاتے ، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اسی طرح کرتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جب دو سجدوں ( یعنی رکعتوں کے بعد ) اٹھتے تو اسی طرح کرتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 744 کی شرح از الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری ✍️
´دو رکعت کے بعد اٹھتے وقت رفع یدین`
«. . . وَصَفَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ . . .»
”. . . جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے . . .“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة: 744]
«. . . وَصَفَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ . . .»
”. . . جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے . . .“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة: 744]
فوائد و مسائل:
↰ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کہا ہے، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ [584] نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
◈ راوی حدیث سلیمان بن داؤد الہاشمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: «هذا عندنا مثل حديث الزّ هري عن سالم عن أبيه»
ہمارے نزدیک یہ اس طرح کی حدیث ہے جسے امام زہری سالم سے اور وہ اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔“ [سنن الترمذي، تحت حديث: 3423، وسنده صحيح]
↰ اس کے راوی عبدالرحمٰن بن ابی الزناد جمہور کے نزدیک ”ثقہ“ ہیں۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «وهو ثقة عند الجمهور، وتكلّم فيه بعضهم بما لا يقدح فيه .»
”وہ جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں، ان پر بعض نے ایسی کلام کی ہے جو موجب جرح نہیں۔“ [نتائج الافكار لا بن حجر: 304]
↰ ”مدینہ میں اس کی حدیث ”صحیح“ اور عراق میں ”مضطرب“ تھی، اس پر جرح اسی صورت پر محمول ہے، یہ روایت مدنی ہے۔“ «والحمد لله!»
↰ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کہا ہے، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ [584] نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
◈ راوی حدیث سلیمان بن داؤد الہاشمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: «هذا عندنا مثل حديث الزّ هري عن سالم عن أبيه»
ہمارے نزدیک یہ اس طرح کی حدیث ہے جسے امام زہری سالم سے اور وہ اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔“ [سنن الترمذي، تحت حديث: 3423، وسنده صحيح]
↰ اس کے راوی عبدالرحمٰن بن ابی الزناد جمہور کے نزدیک ”ثقہ“ ہیں۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «وهو ثقة عند الجمهور، وتكلّم فيه بعضهم بما لا يقدح فيه .»
”وہ جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں، ان پر بعض نے ایسی کلام کی ہے جو موجب جرح نہیں۔“ [نتائج الافكار لا بن حجر: 304]
↰ ”مدینہ میں اس کی حدیث ”صحیح“ اور عراق میں ”مضطرب“ تھی، اس پر جرح اسی صورت پر محمول ہے، یہ روایت مدنی ہے۔“ «والحمد لله!»
درج بالا اقتباس ماہنامہ السنہ جہلم ، شمارہ نمبر 11، حدیث/صفحہ نمبر: 10 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 744 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جنہوں نے دو رکعت کے بعد اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر کیا ہے ان کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے اور جب اپنی قرآت پوری کر چکتے اور رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں کبھی بھی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ نہیں اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر (تیسری) کے لیے اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور «الله اكبر» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس وقت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کی تو کہا: ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت «الله اكبر» کہتے وقت کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 744]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے اور جب اپنی قرآت پوری کر چکتے اور رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں کبھی بھی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ نہیں اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر (تیسری) کے لیے اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور «الله اكبر» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس وقت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کی تو کہا: ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت «الله اكبر» کہتے وقت کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 744]
744۔ اردو حاشیہ:
اس حدیث میں بھی سجدوں کے رفع الیدین کی نفی ہے۔ نیز یہ بھی واضح ہوا کہ تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو کر رفع الیدین کرنا ہے نہ کہ بیٹھے ہوئے۔
اس حدیث میں بھی سجدوں کے رفع الیدین کی نفی ہے۔ نیز یہ بھی واضح ہوا کہ تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو کر رفع الیدین کرنا ہے نہ کہ بیٹھے ہوئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 744 سے ماخوذ ہے۔