حدیث نمبر: 84M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ : حَدَّثَنَاهُ حَازِمُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شَيْبَانَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالحسن القطان نے کہا : ہمیں خازم بن یحیٰی نے` انہیں عبدالملک بن سنان نے انہیں یحیٰی بن عثمان نے اسی ( مالک بن اسماعیل ) کی مثل روایت بیان کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب السنة / حدیث: 84M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ ( ضعیف ) » ( سبب ضعف کے لئے ملاحظہ ہو : اس سے پہلے کی حدیث )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 114

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 114 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´مسئلہ تقدیر پر گفتگو ایک نا پسندیدہ امر`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَكَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ لم يسْأَل عَنهُ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه . . .»
". . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تقدیر کے معاملے میں کچھ گفتگو کرے گا تو قیامت کے دن اس سے پوچھا جائے گا (کہ کیوں تقدیر کے معاملے میں بحث و کرید کیا ہے، جب کہ اس کے بارے میں علم نہیں تھا۔) اور جس نے نہیں کلام کیا اور وہ خاموش رہا تو اس سے باز پرش نہ ہو گی۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ . . ." [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 114]
تخریج الحدیث:
[سنن ابن ماجه 84]

تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
● اسے ابوبکر الآجری نے بھی کتاب الشریعہ [ص235 ح531] میں یحییٰ بن عثمان کی سند سے بیان کیا ہے۔
◄ اس کا راوی یحییٰ بن عثمان التیمی القرشی ابوسہل البصری ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 7606]
◄ علامہ بوصیری نے کہا کہ اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [زوائد ابن ماجه: 84]
◄ یحییٰ بن عثمان کا استاد یحییٰ بن عبداللہ بن ابی ملیکہ لین الحدیث (ضعیف) ہے۔ [تقريب التهذيب: 7587]
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 114 سے ماخوذ ہے۔