حدیث نمبر: 84
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ لَهَا شَيْئًا مِنَ الْقَدَرِ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَكَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ لَمْ يُسْأَلْ عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ` وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے تقدیر کے سلسلے میں کچھ ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو تقدیر کے سلسلے میں ذرا بھی بحث کرے گا اس سے قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کیا جائے گا ، اور جو اس سلسلہ میں کچھ نہ کہے تو اس سے سوال نہیں ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب السنة / حدیث: 84
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لإتفاقھم علي ضعف يحيي بن عثمان ‘‘ يحيي بن عثمان التيمي أبو سھل البصري: ضعيف (تقريب: 7606) وشيخه يحيي بن عبد اللّٰه بن أبي مليكة: لين الحديث (تقريب: 7587) أي: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16265 ، ومصباح الزجاجة : 28 ) ( ضعیف ) » ( سند میں واقع دو راوی یحییٰ بن عثمان منکر الحدیث اور یحییٰ بن عبد اللہ لین الحدیث ہیں ، ملاحظہ : المشکاة : 114 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 114

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 114 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´مسئلہ تقدیر پر گفتگو ایک نا پسندیدہ امر`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَكَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ لم يسْأَل عَنهُ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه . . .»
. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تقدیر کے معاملے میں کچھ گفتگو کرے گا تو قیامت کے دن اس سے پوچھا جائے گا (کہ کیوں تقدیر کے معاملے میں بحث و کرید کیا ہے، جب کہ اس کے بارے میں علم نہیں تھا۔) اور جس نے نہیں کلام کیا اور وہ خاموش رہا تو اس سے باز پرش نہ ہو گی۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 114]
تخریج الحدیث:
[سنن ابن ماجه 84]

تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
● اسے ابوبکر الآجری نے بھی کتاب الشریعہ [ص235 ح531] میں یحییٰ بن عثمان کی سند سے بیان کیا ہے۔
◄ اس کا راوی یحییٰ بن عثمان التیمی القرشی ابوسہل البصری ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 7606]
◄ علامہ بوصیری نے کہا کہ اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [زوائد ابن ماجه: 84]
◄ یحییٰ بن عثمان کا استاد یحییٰ بن عبداللہ بن ابی ملیکہ لین الحدیث (ضعیف) ہے۔ [تقريب التهذيب: 7587]
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 114 سے ماخوذ ہے۔